Archive for August, 2019

سابقابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول 
بھٹو زرداری سے آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام 
آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں آل پاکستان حریت کانفرنس کے 
کنوینر سید فیض نقشبندی اور سید عبداللہ گیلانی نے وفد کی قیادت کی۔ وفد 
میں محمود احمد ساغر، فاروق رحمانی، یوسف نسیم حسن البنا، پرویز احمد شاہ، 
عبدالمجید میر، رفیق ڈار اور مرتضی دورانی شامل تھے۔ حریت کانفرنس کے 
رہنماﺅں نے ملاقات کے دوران پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ آپ 
کی شخصیت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید موجود 
ہیں۔ کشمیریوں کو امید ہے کہ آپ اپنے عظیم نانا اور عظیم والدہ کے نقش قدم 
پر چلتے ہوئے کشمیری عوام کی آواز بنیں گے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سابق 
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مقبوضہ کشمیر کی 
آزادی کے لئے ہزار سال تک لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے 
اپنے بانی کے اس عہد کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ 
اقوام متحدہ بھارت کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند کرے۔ وفد سے 
گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان سے وفا 
ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ پاکستان کے عوام کشمیر اور کشمیریوں کو اپنے وجود 
کا حصہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ کارکن جو 
سمندر پار مقیم ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے سفیر بن کر ان کی آواز دنیا 
بھر کے حکمرانوں تک پہنچائیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 
انہوں نے مودی کے گجرات میں ادا کئے ہوئے قصائی کے کردار کے پیش نظر انہیں 
قصائی کہا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ مودی مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور جبر کا 
بازار مزید گرم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہذب ممالک کی حکومتوں کو اور 
عالمی منصفین کو مودی کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ 
پرویز اشرف، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر شیری رحمن، چوہدری پرویز اشرف اور 
فیصل ممتاز راٹھور بھی موجود تھے۔

-- 

        

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں 
محترمہ فریال تالپور کی عیادت کی ۔ بی بی بختاور بھٹو زرداری اور بی بی 
آصفہ بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے 
ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے محترمہ فریال تالپور کی صحت پر تشویش کا اظہار 
کرتے ہوئے کہا کہ کل اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی تو نیب آفس نے انہیں 
ہسپتال منتقل کیا۔ آج ان کا ریمانڈ پورا ہو رہا تھا تو انہیں عدالت میں پیش 
کرنے کی بجائے جیل بھیجنے کی درخواست کی عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس کی 
کوئی مثال نہیں ملتی مگر اب سب ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فریال 
تالپور بیمار ہیں۔ ڈاکٹر کسی بھی شہری کو اس حالت میں ہسپتال سے منتقلی کی 
اجازت نہیں دیتے مگر نیب اہلکار اس بات پر بضد ہیں کہ وہ محترمہ فریال 
تالپور کو بستر سے اٹھا کر جیل لے جائیں گے۔ وہ ڈاکٹروں کی بھی بات سننے کے 
لئے تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس میں غیرت نہ ہو 
وہ بزرگوں اور خواتین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی پہلے بھی انتقامی 
کارروائیوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 
ہم پریشر میں نہیں آئیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک مشترکہ پیغام 
جانا چاہیے تھا مگر انا اور ضد سے مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلاول 
بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سلیکٹڈ نہ کہا جائے میں انہیں 
سلیکٹڈ نہ کہوں تو کیا کہوں، بے غیرت نہ کہوں تو کیا کہوں، منافق نہ کہوں 
تو کیا کہوں؟ آپ ظلم کرتے ہیں ہم ظلم سہتے رہے ہیں گے مگر آپ ہماری زبان 
بند نہیں کر سکتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخ تمہارے کردار 
کو ضرور یاد رکھے گی کہ یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کشمیرکا سودا کیا تھا۔ اس 
موقع پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر اور چوہدری منظور بھی موجود تھے۔

--

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین صادق 
سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ میں پارٹی کے سینیٹروں کے کردار ا ور اس 
انتخابات کے متعلق ایک پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ہے جس کے 
اراکین سید یوسف رضا گیلانی، سید نیر حسین بخاری، سعید غنی، صابر بلوچ اور 
فرحت اللہ بابر ہیں۔ یہ کمیٹی اگر ضروری سمجھے گی تو دیگر اراکین کو بھی 
شامل کر سکتی ہے۔ یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی استعفوں کے متعلق پارٹی لیڈرشپ کو 
سفارشات بھی پیش کرے گی۔ ایک بیان میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز سینیٹ میں ہونے والی ہارس 
ٹریڈنگ پر سخت مایوسی کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اس کی تہہ تک جائیں 
گے اور جن لوگوں نے اس سلسلے میں گندا کردار ادا کیا ہے انہیں منظرعام پر 
لائیں گے۔ یہ کمیٹی اس بات کی بھی چھان بین کرے گی کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس 
اکثریت ہونے کے باوجود وہ چیئرمین سینیٹ کو کیوں نہ اٹھا سکی اور جو 
سینیٹرز غلطی کے مرتکب پائے گئے اور جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی 
انہیں سزا بھی دی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا 
فیصلہ 26جون کو اسلام آباد میں تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ اس 
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے اراکین لئے گئے ہیں۔ 
پارٹی امید کرتی ہے کہ حزب اختلاف کی دیگر پارٹیاں بھی اپنے سینیٹروں کے 
متعلق تحقیقات کریں گی۔

--