سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں عملی طور پر آمریت نافذ کر دی گئی ہے۔ کٹھ پتلی 
حکومت آئینی اور انسانی حقوق پامال کر رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے 
کہا کہ بی بی آصفہ بھٹو زرداری کے ساتھ توہین آمیز سلوک کٹھ پتلی پر قرض 
رہے گی اور یہ قرض انہیں چکانا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کس قانون کے تحت 
عدالت کی اجازت کے باوجود ایک بیٹی کو اپنے بیمار والدکی تیمارداری سے روکا 
گیا۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو عدالت کے حکم 
کے باوجود اپنے والد سے ملنے سے روکنا نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ انسانی 
حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صرف آمرانہ 
حکومت ہی کرتی ہے جو نہ عدالت کو مانتی ہے اور نہ ہی انسانی حقوق۔انہوں نے 
کہا کہ جس انداز میں سابق صدر آصف علی زرداری کو ہسپتال سے واپس جیل بھیج 
دیا گیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کٹھ پتلی نیازی حکومت کے دل میں کھوٹ ہے۔ وہ 
سابق صدر کی زندگی سے کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کا طرز 
عمل ہی اس بات کی گواہی ہے کہ اس نے سیاسی انتقام کے ذریعے سیاسی مخالفین 
کو دبانے اور خاموش کرانے کے حربے استعمال کر رہی ہے۔