سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس 
کی مد میں صنعتی شعبے کو 228ارب روپے کی بخشش کا معاملہ پارلیمان میں 
اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ 
ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ہدایات کی ہے کہ وہ قومی خزانے کی 
بندربانٹ کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ 
صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس چھوٹ انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ بڑے اداروں کو 
سبسڈی دے کر شہریوں کے ٹیکس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ 
قومی خزانے پر ڈاکہ ڈال کر سرکاری جماعت اور حکومتی شراکت داروں میں 
بندربانٹ شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ عوام کو گیس، 
بجلی اور اشیائے ضروریات پر سبسڈی دینے کی بجائے امراءپر نوازشات کی کیا 
وجوہات ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مالی مددگاروں پر نوازشات عوام 
دشمنی کی ایک اور مثال ہے۔ اشرافیہ کی نمائندہ حکومت امیروں کو مزید امیر 
ترین کر رہی ہے جبکہ عام لوگوں کا معاشی استحصال کر رہی ہے۔