سابق چیئرمین سینِٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرِٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ نے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کی شدید 
مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر آعظم نے پارلیمان کو بے توقیر کرنے 
میں کسر نہیں چھوڑی آصف زرداری کو پارلیمنٹ بااختیار بنانے کی سزا مل رہی 
ہےآرڈیننس سرکار میں عوامی سیاسی قیادت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں۔ سید نیر 
حسین بخاری نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس 
سے آصف زرداری سمیت اپوزیشن ممبران ارکان کی غیر حاضری تشویشناک ہے۔ انہوں 
نے کہا کہ آصف علی زرداری اور دوسرے اپوزیشن ارکان کی غیر حاضری کی ذمہ دار 
حکومت ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو غیرجانبداری کا مظاہرہ 
کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی بجائے پورے ایوان کا سپیکر ہونا چائییے۔ نیر بخاری 
نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرینس کو حکمرانوں کا گھٹیا پن اور خالی 
الدماغ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے 
خلاف حکومتی ریفرنس حکومتی بد نیتی سامنے آگئی ہے۔حکمرانوں کی اداروں کو 
تاابع بنانے کی پالیسی ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ 
پاکستان پیپلز پارٹی صاف شفاف اور آزادانہ انتخاب یقینی بنانے کیلئے آزاد 
اور خود مختار الیکشن کمیشن کی حامی ہے اور رہے گی۔ اہم ترین آیینی ادارے 
کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھانے والے حکمرانوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا 
ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے غیر آیینی نامزد ممبران کے حلف سے 
معذرت کرکے آیین و قانون کی سربلندی کا فریضہ سرانجام دیا۔ نیر بخاری نے 
کہا کہ غیر قانونی اقدام کو نہ ماننے پر چیف الیکشن کمیشنر سردار رضا خان 
کو ہٹانے کی کوشش مطلق العنانیت سوچ کی عکاسی ہے۔ نیر بخاری نے حکمرانوں کو 
متنبہہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں کو قومی ادارے رہنے دیا جائے سرکاری جماعت 
کے دفاتر نہ سمجھا جائے۔