اسلام آباد/ کراچی (19 ستمبر 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید میر مرتضیٰ بھٹو کو ان کی 23 ویں یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو نے آمر ضیاء کے خلاف جدوجہد کی شروعات کی اور اس عمل کی پاداش میں انہیں آمریتی قوتوں کے ہاتھوں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ابھی نوجوان ہی تھے، جب ایک آمر اور عدلیہ سے منسلک چند افراد نے ایک گہنونی سازش رچائی اور ان کے والد وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی منشا اور ان کے حقیقی مینڈیٹ کو کچلنے کی خاطر جمہوری قوتوں کے خلاف اس طرح کی صورتحال مختلفوں شکلوں میں آج بھی درپیش ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے چھوٹے بھائی شہید شاہنواز بھٹو کو جلاوطن ہونے پر مجبور کیا گیا اور وہ جہاں بھی جاتے ان کا تعاقب کیا جاتا اور بالاخر آمر اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تیسری نسل ہیں،جن کو آمر ضیاء کی باقیات ایک لبمی منظم سازش کے تحت نشانہ بنا رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کو “ایک بھٹو کو نشانہ بنانے کے لیئے دوسرے بھٹو کو نشانہ بناوَ” کے گہنونے منصوبے کے تحت شہید کیا گیا تاکہ اس کی اپنی ہمشیرہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زیرقیادت قائم عوامی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکےاور صدر آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شہید میر مرتضیٰ بھٹو بھادری اور جدوجہد برائے جمہوریت کے آئیکن کے طور پر ہمیشہ یاد رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستانی عوام کے جمہوری و انسانی حقوق کے لیئے بلاخوف و خطر جدوجہد کرتی رہے گی۔