سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے سابق
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کے گھر کی تلاشی کو مشتہر کرنے پر
ردعمل کے بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور بار بار اپنے
حلقے کے عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والے سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کے
گھر کی تلاشی کو مشتہر کرنا میڈیا ٹرائل ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ چیف جسٹس
کا کہنا درست ہے کہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ میں ملوث ہے۔ نیب یکطرفہ احساب
سے اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا نیب خود نیب زدگان کی “جیب” کی گھڑی
بن گئی ہےنیب حکومتی خاندان وزراءاور پی ٹی آئی کو کلین چٹ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرکے حکمران خود
گہری دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ احتساب پر کسی کو اعتراض
نہیں لیکن احتساب کے نام پر کردار کشی الزام تراشیاں اور ثبوت کے بغیر
گرفتاریاں سیاسی انتقامی ہتھیار ثابت شدہ ہیں حکمران مت بھولیں انہیں سیاسی
مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا مہنگا پڑے گا۔ نیر بخاری نے کہا کہ امور مملکت
رکے ہوئے ہیں اور رموز مملکت اہلیان “تبدیلی”کی سمجھ سے باہر ہیں۔ نیر
بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی مخالفت کو دشمنی میں “تبدیلی” کے خلاف
تھی اور رہے گی قانون کو ہاتھ کی چھڑی بنانے کے زعم میں مبتلا ہونا کم ظرفی
کی نشانی ہے۔