پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی
آئی کی سلیکٹڈ حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو بغیر کسی ثبوت جیلوں میں
ڈالا ہوا ہے اور یہ احتساب نہیں بلکہ انتقامی کارروائیاں ہیں۔ چیئرمین
بلاول بھٹو زرداری پیر کے روز اڈیالہ جیل کے باہر اپنے والد صدر آصف علی
زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ
انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اسی راولپنڈی شہر میں شہید ذوالفقار علی بھٹو
کا عدالتی قتل کیا گیا اور اس عدالتی قتل کے متعلق ایک پٹیشن بھی سپریم
کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن نہ کوئی اس عدالتی قتل پر معافی مانگنے کے لئے
تیار ہے اگر شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو عام
عوام کے ساتھ اس ملک میں کیا سلوک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد جیل
میں علیل ہیں لیکن انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ صدر آصف علی
زرداری عوام اور جمہوریت کی خاطر جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں
نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت صرف اپنے سلیکٹرز کو خوش کرنا چاہتی ہے اور عوام کی
اسے کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے جیل سے اپنی پارٹی کے
عہدیداروں اور کارکنوں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ اس کٹھ پتلی حکومت کی چالوں
میں نہ آئیں اور اسی طرح اس کٹھ پتلی حکومت کے خلاف لڑیں جس طرح وہ پہلے
ڈکٹیٹرز کے خلاف لڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام بیروزگاری، مہنگائی کے
ہاتھوں تنگ ہیں کیونکہ سلیکٹڈ حکومت عوام کے ووٹوں سے نہیں آتی بلکہ اسے
اوپر سے تھونپا جاتا ہے۔ آج عوام اپنے بجلی، گیس کے بلوں اور دو وقت روٹی
کے لئے فکر مند ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب بھی
پیپلزپارٹی اقتدار میں آتی ہے وہ عام آدمی کو ریلیف مہیا کرتی ہے جیسا کہ
بی آئی ایس پی پروگرام، تنخواہوں میں 150فیصد اور پنشن میں 100 فیصد اضافہ
جبکہ کٹھ پتلی حکومت اور کٹھ پتلی وزیراعظم کے تمام وعدے جھوٹے ثابت ہو چکے
ہیں اس لئے حکومت کو انہیں گھر بھیجنا پڑے گا اور بہت جلد پی پی پی عوام کی
مدد سے کٹھ پتلیوں کو گھر بھیج دے گے۔ حزب اختلاف کے اتحاد کے بارے میں ایک
سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی پی پی حزب اختلاف کی پارٹیوں سے رابطے
میں ہیں۔ کشمیر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا
وجہ ہے کہ بھارت کو پچھلے 70 سالوں میں کشمیر پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں
ہوئی اور اب کیوں اس نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا ہے۔ عمران خان دنیا کو یہ
بتانے میں ناکام ہوگئے ہیں کہ بھارت نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا۔ انہوں نے
کہا کہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہے۔
انہوں نے عمران خان پر تنقید کی کہ انہوں نے کشمیریوں کے استصواب رائے کے
حق کے متعلق جنرل اسمبلی میں کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی دنیا کے کسی ملک
کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے کسی قسم کی کوئی ڈیل ہے نہ ہوگی اور
ہم ڈیل پر لعنت بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں اگر کوئی
درمیانی راستہ نکلتا ہے تو اس پر بات کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا سید مراد
علی شاہ پر کیس قطعی جھوٹا ہے اور جس جے آئی ٹی کی بنیاد پر یہ کیس بنانے
کی کوشش کر رہے ہیں اس کے متعلق عدالت نے کہا تھا کہ کس کی ہدایت پر اس جے
آئی ٹی نے سید مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو کا نام شامل کیا گیا تھا؟ انہوں
نے کہا کہ مراد علی شاہ کو گرفتار کرنے کی نہ کو ئی اخلاقی، آئینی یا
قانونی وجہ موجود ہے لیکن اگر مراد علی شاہ کو گرفتار کیا گیا تو اس کے
پاکستان کے وفاق پر گہرے مضمرات ہوں گے کیونکہ مراد علی شاہ وفاق کے ایک
صوبے کے منتخب کردہ وزیراعلی ہیں اور جتنی اکثریت سے وہ منتخب ہوئے اتنی
اکثریت میں تاریخ میں کوئی وزیراعلی منتخب نہیں ہوا۔ ان کی گرفتار
پیپلزپارٹی کی نظر میں ریڈ لائن کو عبور کرنا ہوگا جس کی پاکستان
پیپلزپارٹی ایسی مذاحمت کرے گی کہ آزادی مارچ بھول جائے گا۔