Uncategorized

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید شاہنواز بھٹو کو ان کی 34 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید شاہنواز بھٹو کو ان کی 34 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں بحالیِ جمہوریت کے لیئے جاری عوامی جدوجہد میں بھٹو خاندان کی جانب سے بھرپور قائدانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں شہید شاہنواز بھٹو کو ایک گہری و گہنونی سازش کے تحت شہید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آمریتی عناصر شہید شاہنواز بھٹو کی انقلابی سوچ سے خائف اور پاکستان کے نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی نئی نسل کے لیئے شہید شاہنواز بھٹو ایک کیس اسٹڈی ہے کہ عوام کے حقِ حاکمیت کو غضب کرنے والی قوتیں جمہوریت کی بات کرنے پر کتنی سفاک بن جاتی ہیں اور قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار و زرخیز ذہنوں کے مالک افراد کو کس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فکرِ بھٹو پر قائم شہید شاہنواز بھٹو کی جمہوری انقلابی سوچ کا سفر اور جذبہ عوامی خدمت آج بھی جاری ہے، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کو حقیقی جمہوری و مساوات پر مبنی قائداعظم کا پاکستان بنانے کے لیئے آج بھی جدوجہد کے میدان میں موجود اور منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے پارٹی عہدیداران و کارکنان اور عوام کو اپیل کی کہ وہ آج کے دن شہید شاہنواز بھٹو کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیئے دعا کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے

کراچی (14 جولائی 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت کے تجربے نے معیشت اور معاشرتی اقدار کو کچلنے کے ساتھ ساتھ اداروں کے وقار کو بھی ناقابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچایا ہے، جس کے ازالہ کٹھ پتلی کو بنی گالہ کے چڑیا گھر میں واپس بھیجنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ عوام نے دھاندھلی زدہ بجٹ کو مکمل طور رد کردیا ہے، کیونکہ اس طرح کی بُری پالیسیوں کے نتائج بعدازاں قوم کو ہی بھگتنا پڑیں گے، جو کسی بھیانک تصور سے بھی زیادہ خوفناک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دس ماہ پر محیط دورِ بدانتظامی کے دوران قومی اثاثے گھٹ کر آدھے ہو گئے ہیں، جبکہ غربت اور معاشی بے یقینی نئی بلندیوں کو چُھو رہی ہیں۔ ارکان سندھ اسمبلی نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ بے یقینی اور افراتفری نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ملک کا ہر آدمی حکومت کی غلط منصوبہ بندی و بیوقوفانہ معاشی پالیسیوں کا شکار ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان کے شہری مختلف قسم کے 42 ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے حواری دنیا کے آگے قوم کو ٹیکس چور بناکر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد عوام کی امنگوں کا ترجمان اقدام و واضح پیغام ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی ظالمانہ معاشی پالیسیوں، غیرجمہوری انداز اور بے اعتدال رویئے کے خلاف مکمل نفی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے غبارے میں ہوا بھرنے و کٹھ پتلیوں کو دلکش نقاب پہنانے، عادی لوٹوں و بدعنوان سیاسی عناصر کو واشنگ مشین سے گذارکے عوام کے مدمقابل لانے جیسے اقدام اب ملک کے لیئے بھیانک خواب بن کر کھڑا ہے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان کو پہنچ گئے ہیں، روپے کی قدر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، صنعت کا صفایا ہو رہا ہے، نوجوانوں کو بے روزگاری ادھیڑ رہی ہے، عوام غربت میں ڈوب رہے ہیں اور تاجر زیرعتاب ہیں۔ یہ تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی طویل فہرست میں سے وہ چند تازیانے ہیں جن سے قوم زخمی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ پوری دنیا میں ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، کہ ہمارے وفاقی وزراء بیرونِ ملک دوروں کے دوران خالی کرسیوں کو خطاب فرما رہیں ہیں کیونکہ دھاندھلی اور انتخابات چوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سلیکٹڈ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اب وہ واحد امید ہیں جو ملک کو اس حالیہ دلدل سے باہر نکال سکتے ہیں، کیونکہ وہ ملک کے ان غریب و نوجوانوں کی آرزوَں و امنگوں کے حقیقی ترجمان ہیں، جو سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کی سلیکٹڈ حکومت کے اصل شکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے عالمی بئنک کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ کی جانب سے ریکوڈک معاملے میں پاکستان کے خلاف 5.976 ارب روپے کا جرمانہ عائد کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے والے کرداروں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے، خواہ ان کا تعلق عدلیہ سے ہو یا انتظامیہ سے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ پروڈکشن آرڈر کے قانون کو ختم کرکے حکومت پارلیمنٹ کو کمزور کرے گی اس کا نقصان بھی انہیں اٹھانا پڑے گا۔ میاں نواز شریف کو گھر شفٹ کیا جانا چاہیے۔ حکومت تیس بلین ڈالر کے مزید قرضے ایسے ممالک سے لینے جارہی ہے جن سے ہم بات نہیں کر سکتے۔ دوبئی میں ایک کمپنی ہے جس پر لندن میں کیس چل رہے ہیں اور اس کمپنی کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے۔ عمران خان کی اس سے وابستگی ہے۔ و زیراعظم کے ایک سکینڈل کی وجہ سے میرا انٹرویو نشر نہیں ہونے دیا گیا۔ مسقبل بلاول اور مریم کا ہے مریم ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم ان کو مشورے دیتے رہے ہیں۔ ملک میں اس وقت سویلین مارشل لاءہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد سے عمران خان کی حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے گی اور اس کیلئے ہم جدوجہد کررہے ہیں۔ مریم نواز نے جو ویڈیو لیک کی ہے وہ میں نے نہیں دیکھی کیونکہ مجھے ٹی وی اور ریڈیو کی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس قیوم کی عدالت میں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی پیش ہوتے رہے اور ہمیں سزائیں ہوئیں جو بعد میں ختم ہوگئیں۔ ملک میں سویلین مارشل لاءہے۔ اس حکومت کے جانے کے بعد الیکشن ہوں گے یا سویلین حکومت آئے گی سیاسی پارٹیاں مل کر حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خاص لوگ ہیں جو ڈرائی کلین نہیں ہورہے ان کیلئے دبل صرف ایکسل کا استعمال کرنا پڑے گا۔ مستقبل بلاول بھٹو اور مریم نواز کا ہے مریم نواز ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم انہیں مشورہ دیتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہم سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں موجودہ حکومت کو خطرہ پیپلزپارٹی کی طاقت ہے اور بلاول کی طاقت ہے۔ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں مجھے جیل میں ڈالتے رہے کیونکہ اس وقت انہیں پیپلزپارٹی سے خطرہ تھا سینیٹ میں اکثریت ن لیگ کی ہے۔ و زیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داﺅد کا تعلق جس برادری سے ہے وہ بھارت سے آئے تھے۔ پاکستان سندھ کے لوگوں نے بنایا اور پاکستان ہمارا اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو بہتری کیلئے مزید پریکٹس کرنی چاہیے اور نئے نوجوانوں کو سامنے لانا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے خاتمے کے حوالے سے قانون لایا جارہا ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا نقصان حکومت کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہوسکتا ہے میرے آخری پروڈکشن آرڈر ہوں لیکن 2020 پاکستان کی بہتری کا سال ہوگا۔ میرا انٹرویو اس لئے رکوایا گیا کہ میں نے وزیراعظم کے ایک سکینڈل کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ حکومت مزید تیس بلین ڈالر کے قرضے ایسے ممالک سے لے رہی ہے جس سے ہم پھر بات بھی نہیں کر سکیں گے قرضے ایشین بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے لے رہے ہیں جو بعد میں ہماری ایمبیسی پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر اگر بنانے ہیں تو کرپشن کے حوالے سے ریفرنس بناﺅ تو پتہ چل جائے گا کہ میں نے کیا کرپشن کی ہے۔ ہم جب باہر کے ممالک کے دورے پر جاتے تو سستے ہوٹلوں میں ٹھہرتے تھے ایمبیسی میں نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کی کمپنی جس پر لندن میں کیس چل رہا ہے اس کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے میں نے اپنے انٹرویو میں اس چیز کا انکشاف کیا تھا کہ عمران خان کی اس کمپنی کے ساتھ وابستگی ہے۔

5 جولائی کا شب خون

جولائی 1977 کا شب خون 90 روز کی بجائے گیارہ برس چلا اور وقفے وقفے سے اُس کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ شب خون اپنی بے شمار سفاکیوں کے ساتھ دل و دماغ سے محو ہونے کو نہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اُس کی زیادہ تر مہلک علامات قومی تاریخ کے رگ و پے میں جذب ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس کے باوجود کہ ’’قومی اتحاد‘‘ والے، 1973 کی جمہوریہ کو مارشل لا کی کھائی کے دہانے تک لے آئے تھے، بالغ سیاسی عناصر نے اس اندھی کھائی میں گرنے کی بجائے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے نئے انتخابات کے انعقاد پہ اکتفا کر بھی لیا، لیکن اب دیر ہو چکی تھی اور بھٹو صاحب اپنے ہی نامزد جرنیل کے شب خون کے منتظر تھے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار۔ پھر جیسے مملکتِ خداداد پہ آفت ایسی ٹوٹی کہ ختم ہونے کو نہیں۔ حالانکہ بھٹو صاحب نے ٹوٹے ہوئے پاکستان کو پھر سے کھڑا کیا، بھارت کی قید سے 90 ہزار جنگی قیدی آزاد اور مفتوحہ علاقے واگزار کرائے، افواجِ پاکستان کو پھر سے تگڑا کیا، جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی اور ایک قوم پرستانہ خارجہ و سلامتی کی پالیسی تخلیق کی، لیکن وہ جنرل ضیا اور اس کے رفقا کی فوجی بغاوت سے بچ نہ پائے۔ بھٹو صاحب اور جنرل ضیا میں اور سول فوجی تعلقات میں بھی کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا۔ ہاں! اگر بڑا مسئلہ تھا تو وہ یہ کہ 1973 کے آئین اور

اقتدارِ اعلیٰ کی سویلین ہاتھوں میں منتقلی، پرانے جدید نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کو ہضم ہونے کو نہ آئی۔ بھٹو صاحب آخری وقت تک مالی طور پر ایک بے داغ، مقتدر، مقبول اور ذہین وزیراعظم رہے۔ اُنہوں نے افواج سمیت نوکرشاہی میں اصلاحات بھی کیں لیکن وہ اتنی ناکافی تھیں کہ سویلین جمہوری راج اُن کی ریشہ دوانیوں سے بچ پاتا۔ جنرل ضیاالحق نے اپنے ہی محسن کا نہ صرف یہ کہ تختہ اُلٹ دیا بلکہ ججوں کو استعمال کر کے اُن کے عدالتی قتل کا اہتمام بھی کیا۔ 1973 کا آئین معطل ہوا، عدلیہ باندی بنی، میڈیا بند ہوا، ہزاروں جمہوری کارکن جیلوں میں سال ہا سال کے لیے بند کر دیئے گئے۔ ہر طرف ریاستی دہشت کا راج مسلط کر دیا گیا۔ جونہی افغانستان میں انقلابِ ثور بپا ہوا اور شاہِ ایران کا تختہ ہوا، جنرل ضیاالحق (جن کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون میں رنگے ہوئے تھے) نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکہ اور سی آئی اے کے افغانستان میں ردِّانقلاب بپا کرنے کے منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ پھر کیا تھا نہ صرف ایک انتہائی رجعت پسند فوجی آمریت کو طوالت ملی، بلکہ پاکستان نام نہاد ’’آزاد دُنیا‘‘ کے فی سبیل اللہ فساد کے لیے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا دیا گیا، جس کا خمیازہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے جوان آج تک بھگت رہے ہیں۔ 1985 کے جس عبوری حکم نامے پہ غیرسیاسی عناصر کو ساتھ ملا کر ایک عجیب الخلقت فوجی و سویلین آمرانہ نظام تیار کیا گیا وہ آج بھی بڑھتے ہوئے کروفر سے جاری ہے۔ 90 کی دہائی میں جو چار مختصر سیاسی حکومتیں آئیں بھی وہ عضو معطل تھیں اور جنہیں باہم جوتم پیزار میں تھکا کر فارغ کر دیا گیا۔ پھر وہی ہوا جو 5 جولائی 1977 کو ہوا تھا اور جنرل مشرف اپنے کارگل ایڈونچر کی سزا پانے کی بجائے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر بیٹھے۔ ایک اور منتخب وزیراعظم کو ایک اور جعلی کیس میں جلاوطن کر دیا گیا۔ جنرل ضیا الحق کا آٹھویں ترمیم والا آئینی چربہ ہو یا پھر جنرل مشرف کا آئینی سرکہ، اٹھارہویں ترمیم کے باوجود عملاً وہی ہے۔ جمہوریت کے لیے جدوجہد کا جو سفر 5 جولائی 1977 کے بعد شروع ہوا تھا، وہ ابھی بھی جاری و ساری ہے۔اب یوں محسوس ہوتا ہےگویا تمام جمہوری کاوشیں، قربانیاں، تحریکیں ضائع ہوئیں، اُلٹا کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزائوں کا بازار پھر سے گرم کر دیا گیا ہے۔ اب آپ جمہوریت کی بات تو کر کے دیکھیں، ہر طرف سے کرپشن کرپشن کے طمانچے اور لفافے لفافے کے طعنے آپ کا استقبال کریں گے۔ لیکن عوام الناس نے کیا گناہ کیا ہے جو اصل گناہگاروں کے گناہوں کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے مرے جا رہے ہیں۔ یہ جس قرض کے جال کی بات کہتے لوگ نہیں تھکتے، ایوب خان سے جنرل مشرف کے دور تک دیکھیں کہ یہ جال کس نے بچھایا اور وہ قرض اور ’’امداد‘‘ کہاں خرچ ہوئی۔ خیر سے عمران خان کی معاشی ٹیم یہ تو بتائے کہ 12 ارب ڈالرز کے دوستوں سے قرض لینے کے بعد اگلے تین برس میں مزید 38 ارب ڈالرز کے قرضوں کا بوجھ ڈالنے کا ارادہ کس نیک کام کے لیے ہے۔ پھر بھی شور اس کرپشن پہ ہے جس سے اس ملک کے اخراجات کی داڑھ بھی گیلی ہونے سے رہی اور ہمارے سادہ کپتان یہ راگ الاپتے نہیں تھکتے کہ شریفوں اور زرداری کی دولت واپس آ جائے تو ڈالر اپنے مقام پہ آ جائے گا۔ حالانکہ ایک سب سے بڑے غیرملکی کھاتے میں محض 137 ملین ڈالرز ہیں۔ عمران حکومت نے ساڑھے سات ارب ڈالرز کے بیرونی اکائونٹس کی ریکوری کی مہم ختم بھی کر دی ہے جس کا گلہ ہمارے نصف انقلابی اسد عمر نے کیا ہے۔ بھئی یہ آ بھی جائے تو آپ کے نہیں مالکوں کے ہیں اور اس میں سے آپ کو 10 فیصد بھی ملے تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ اصل سوال وہی ہے جو تمام حکومتوں کو درپیش رہا ہے اور انہوں نے جسے تقریباً ایک جیسے حل پہ چل کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی بھی تو ناکام رہیں اور اور آئندہ بھی رہیں گی۔ اصل مسئلہ سیاسی معیشت کا ہے اور اس دست نگر اور نحیف معاشی بنیاد کا ہے جس میں اتنے بھاری بھر کم بالائی ڈھانچے اور جنگی ریاست کے بے انتہا اخراجات کا بوجھ اُٹھانے کی سکت نہیں۔ اب یہ بحران لاینحل ہو چکا۔ آئندہ تین برس میں پچاس ارب ڈالرز کے مزید قرضے لے کر آپ اس مفت خور اور خرچیلی ریاست کا جہنم ٹھنڈا نہیں کر سکے۔ ضرورت ہے 1985 کے اقتدار کے ڈھانچے کو بدلنے کی اور عوام کو اقتدارِ اعلیٰ سونپنے کی اور دست نگر معیشت کے استحصالی ڈھانچے کو توڑ کر عوامی ترقی کے معاشی نظریے کو اپنانے کی۔ لیکن وہ جوہر کہاں چھپا ہے جو اس مملکتِ خداداد کا نجات دہندہ بنے۔ آخر کب تک 5 جولائی 1977 کا شب خون، 1985 کا مارشل لا نسخہ اور مانگے تانگے کی معاشی چھٹی جاری رہے گی۔ آخر اس نے ختم ہونا ہے یا پھر وہ ہوگا جسے انہدام (Implosion) کہتے ہیں۔ چپ رہ کر مرنے سے، کہہ کر مرنا اچھا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کینیڈا کے زیر اہتمام بے نظیر بُھٹو شہید کی ۶۶ ویں سالگرہ کا اہتمام۔

ٹورنٹو (۲۲ جون ۲۰۱۹) کینیڈا: پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈا کے زیر اہتمام بے نظیر بھُٹو شہید کی ۶۶ ویں سالگرہ ہر سال کی طرح نہایت جوش و خروش سے منائی گئ۔ تقریب کا اہتمام مِسّی ساگا کے ایک مقامی ریسٹورانٹ میں کیا گیا جس میں پی پی پی کے کارکنوں کمیونٹی ممبران اور تمام شعبہ ہاۓ زندگی کے افراد کی بھر پور شرکت۔

تقریب کی صدارت چوہدری جاوید گُجر صدر پی پی پی کینیڈا اور سٹیج سیکر ٹری کے فرائض راؤ محمد طاہر نے ادا کیے۔

تقریب میں پاکستانی نژاد اونٹاریو ممبر صوبایئ اسمبلی کلید رشید، قیصر بٹ وائس پریذیڈنٹ لبرل پارٹی اُف کیںیڈا، ابراہیم دانیال وائس پریذیڈنٹ لبرل پارٹی اُف اُنٹاریو، ممبر پارلیمنٹ اقرا خالد کے والد حافظ خالد اور پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری فرحت اللہ بابر کے بھائ ظفر اُللہ بابر کی خصوصی طور پر شرکت۔

تقریب میں احسان کھوکھر صدر ٹور نٹو، مصدق اکرام جنرل سیکر ٹری ٹورنٹو ، شفیق راجہ اڈیشنل جنرل سیکر ٹری کینیڈا، عرفان ملک سیکر ٹری انفارمیشن کینیڈا، سجاد چوہدر ی نائب صدر ٹورنٹو، باجی ثُریا صدر شُعبہ خواتین ، نائب صدر کینیڈا پرویز سُلطان، نائب صدر کینیڈا خواجہ انجُم، جوائنٹ سیکر ٹری خالد بُخاری، سعد راز نائب صدر ٹورنٹو کی شرکت۔

تقریب میں شہزادہ بے نظیر، وقاص گوندل، اشرف لودھی، بدر مُنیر، اُویس اقبال، اُویس توحید، اظہر فرید، مستنصر بندوق والا، انجم شہزاد، راؤ اشرف، ناصر شاہ، مرزا نسیم بیگ، آصف سید، ارشد بھٹی، اقبال بھٹی، ڈاکٹر محمود، بلا ل چیمہ، سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے بھائ پیٹر بھٹی، صابر گایا، کے علاوہ دوسرے معززین شہر کی شرکت۔

تقریب میں راؤ طا ہر نے مشہور نظم “ وہ لڑکی لعل قلندر تھی” سُنائ۔

احسان کُھوکھر، مُصدق اکرام، سجاد چوہدری اور دوسرے مقررین نے اپنے خطاب میں بے نظیر بُھٹو کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔

شفیق راجہ نے بلاول بُھٹو کا پی پی پی کینیڈا کے نام پیغام پڑھ کر سنایا۔

کلید رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ بے نظیر بُھٹو نا صرف پاکستان بلکہ جمہوریت، انسانی حقوق اور آمریت کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے پوری دُنیا کے لیے مشعل راہ ہیں۔

چوہدری جاوید گُجر نے اپنے صدارتی خطبہ میں عمران حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ کہا کہ حکومت تمام شُعبوں میں ناکام ہو چکی ہے اور پی ٹی آئ اپنا کوئی بھی وعدہ پورا کر سکی اور غیر منتخب لوگوں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا ہے اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن اصف علی زرداری اور فریال تالپور کہ گرفتاری کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور بے نظیر بُھٹو کے مشن کو پورا کرنے کے لیے بلاول بُھٹو کی قیادت میں پوری طرح مُتحد ہیں

تقریب کے اختتام پر سال گرہ کا کیک کاٹاگیا اور شُرکا ء تقریب کے لیے پُر تکلف عشائیہ کا انتظام کیا گیا ۔

سلام آباد / کراچی (20 جون 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فلسفہ کو ریاست و معاشرے کو درپیش تمام مسائل کے حل کی کُنجی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے، تضادات کو مفاہمت کے ذریعے حل کرنے پر فوقیت دی جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فلسفہ کو ریاست و معاشرے کو درپیش تمام مسائل کے حل کی کُنجی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے، تضادات کو مفاہمت کے ذریعے حل کرنے پر فوقیت دی جائے۔

اپنی والدہ و اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 66 ویں سالگرہ کے موقعے پر جاری کردہ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ اس دھرتی کی عظیم بیٹی تھی، اب پاکستان کی روشن و بینظیر پہچان ہیں۔ وہ اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک عوام کے حقوق اور پاکستان کی سربلندی کے لیئے جدوجہد کرتی رہیں۔ جب سے انہوں نے سیاست میں قدم رکھا، مشکل حالات اور بے دریغ قربانیوں کے تقاضے ان کے تعاقب میں رہے، لیکن وہ عزم، حوصلے اور صبر کے ساتھ اپنے مشن پر کاربند رہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن پاکستان میں جمہوری نظام اور مساوات پر مبنی معاشرے کی تشکیل تھا، جو درحقیقت قائدِاعظم محمد علی جناح کے افکار کی روشنی میں قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو دو بار منتخب ہونے کے باوجود ان کی عوامی حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا، لیکن مشکل ترین حالات کے باوجود انہوں نے جمہوری اداروں کی مضبوطی، آئین و قانون کی بالادستی، وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ اور مزدوروں، خواتین و اقلیتوں جیسے معاشرے کی پسماندہ طبقات کے فلاح، بھبود اور ترقی کے لیئے نمایاں ٹھوس اقدامات اٹھائے، جو قوم کے لیئے آج باعثِ فخر اور دنیا کے لیئے شاندار مثال ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ ان کے لیئے باعثِ اطمینان اور باعثِ فخر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن پر سختی سے کاربند ہے اور اپنی شہید چیئرپرسن کے مشن کو پایئہ تکمیل پر پہنچانے کے لیئے ہر کارکن فکرِ بھٹو سے لیس ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو آج بھی شہید بی بی کے مشن کا بلاخوف و خطر جاری رکھنے کی پاداش میں انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ دن اب دور نہیں، جب انتشار و خلفشار کے اندھیروں کے آگے حق و سچائی کا وہ سورج طلوع ہوگا، جس کی آبیاری دخترِ مشرق نے کی تھی

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے پاکستان کی عوام کو خبردرا کرتے ہوئے کہا ہے

کراچی (18 جون 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے پاکستان کی عوام کو خبردرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت کی کشتی میں اتنا بڑا سوراخ کردیا ہے کہ جس کا نادازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ دس ماہ کے دورِ بدنظمی کے دوران 1/4 ملکی دولت کا صفایا ہو گیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں جاری بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت جب سے آئی ہے پاکستان پر تابڑ توڑ حملے کرنے میں مصروف ہے اور جن کی روکتھام کے لیئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، پیشتر اس کے کہ ہونے والا نقصان ناقابلِ تلافی بن جائے۔ انہوں نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بئنک اور کریڈٹ سوئس کے رکارڈ کے مطابق جب عمران خان اقتدار میں آیا تھا تو اس وقت ملک کے کُل دولت کا تخمینہ 422 بلین ڈالرز تھا۔ ڈالر تقریباً 120 روپے کے برابر تھا، لیکن اب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 160 روپے کا ہوگیا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستانی روپے کی قدر میں 45 فیصد کمی ہوئی ہے اور ملکی اثاثوں کا کُل تخمینہ اب کم ہوکر 316.5 بلین ڈالرز ہوگئے ہیں۔ لحاظہ 100 ارب ڈالرز کے ملکی اثاثے گذشتہ دس ماہ کے دوران یا تو گٹروں میں چلے گئے یا تحریک انصاف میں موجود عیار و مکار لوگوں کی جیبوں میں چلے گئے ہیں۔ سریندر ولاسائی نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد حکومت ہے، جو اکانامک سروے کے مطابق کوئی ایک حدف بھی حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ معاشی شرح نمو فقط 3.3 فیصد رہا ہے، جو افغانستان، بنگلادیش، اور بھوٹان حتیٰ کہ ایتھوپیا سے بھی کم ہے، جو چند دہائیاں قبل دنیا میں غریب ترین ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن آج اس کی شرح نمو ہم سے تین فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے معاشی جرائم کی پردہ پوشی کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاریاں بھی اسی طرح کے ہتھکنڈوں کی کڑی ہے۔ سریندر ولاسائی نے وفاقی حکومت کی معاشی ناانصافیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کی روشنی میں ایک متوازن، غریب دوست اور ترقیاتی بجیٹ پیش کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

ڪراچي (18 جون 2019) پاڪستان پيپلز پارٽي جي ايم پي اي سريندر ولاسائي پاڪستان جي عوام کي خبردار ڪندي چيو آھي تھ تحريڪ انصاف جي حڪومت ملڪي معيشت جي ٻيڙي ۾ ايڏو وڏو سوراخ ڪري ڇڏيو آھي، جو ان جو اندازو ان مان لڳائي سگھجي ٿو تھ گذريل 10 مھينن جي بدنظمي واري حڪومت دوران ملڪي دولت جو ¼ حصو ڌوڙ / ضايع ٿي چڪو آھي. سنڌ اسيمبلي ۾ بجيٽ تي جاري بحث ۾ حصو وٺندي سريندر ولاسائي چيو تھ جڏھن کان تحريڪ انصاف جي سليڪٽڊ حڪومت اقتدار ۾ آئي آھي، تڏھن کان پاڪستان تي ھلائون ڪرڻ ۾ رُڌل آھي. انھن حملن کي تڪڙو روڪڻ جي ضرورت آھي، متان نقصان ايترو وڌي نھ وڃي، جنھن جو ازالو ئي ممڪن نھ رھي. ھن نشاندھي ڪندي چيو تھ عالمي بئنڪ ۽ سوئس ڪريڊٽ جي رپورٽن مطابق جڏھن عمران خان اقتدار ۾ آيو ھو ان صقت پاڪستان جي ڪُل دولت جو اندازو 422 ارب ڊالرز ھو. ڊالر جي قيمت 120 روپيا ھئي، جيڪو ھاڻي اوپن مارڪيٽ ۾ وڃي 160 روپين جو ٿيو آھي. ائين پاڪستاني روپئي جي قدر ۾ 45 سيڪڙو لاٿ آئي آھي ۽ ملڪي اثاثن جي قيمت وڃي 316.5 ارب ڊالرز تي بيٺي آھي. يعني گذريل 10 مھينن دوران ملڪي دولت جا 100 ارب ڊالرز يا تھ گٽرن ۾ وھي ويا يا تحريڪ انصاف ۾ موجود چالاڪ ۽ مڪار ماڻھن جي کيسن ۾ ھليا ويا آھن. سريندر ولاسائي چيو تھ تحريڪ انصاف جي حڪومت اھا واحد حڪومت آھي جيڪا اڪانامڪ سروي مطابق پنھنجا سمورا حدف حاصل ۾ ڪرڻ ۾ ناڪام ثابت ٿي. معاشي واڌ جو تناسب 3.3 سيڪڙو رھيو، جيڪو افغانستان، بنگلاديش ۽ ڀوٽان کان تھ گھٽ آھي پر ڪجھ ڏھاڪا اڳ تائين سڄي دنيا ۾ غريب ترين ملڪ طور ڄاتو ويندڙ ايٿوپيا کان بھ گھٽ آھي، جنھن جي معاشي واڌ جو تناسب ھاڻي اسان کان بو ٽيڻون آھي. ھن چيو تھ تحريڪ انصاف پنھنجا معاشي ڏوھ لڪائڻ لاءِ پاڪستان پيپلز پارٽي ۽ مخالف ڌر جي ٻين پارٽين خلاف انتقامي ڪاروائيون شروع ڪري ڇڏيون آھن. اڳوڻي صدر آصف علي زرداري ۽ فريال ٽالپر جو گرفتاريون پڻ انھن ساڳين ئي ھٿڪنڊن جي ڪڙي آھي. سريندر ولاسائي وڏي وزير مراد علي شاھ ۽ سنڌ ڪابينا کي خراج تحسين پيش ڪندي چيو تھ وفاقي حڪومت جي معاشي ناانصافين ۽ رڪاوٽن باجود پارٽي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري جي ھدايتن جي روشني ۾ ھڪ متوازن، گهريب دوست ۽ ترقياتي بجيٽ پيش ڪرڻ واکاڻ جوڳو قدم …

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری آج رائےونڈ (لاہور) آئے ۔ دونوں راہنماں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری آج رائےونڈ (لاہور) آئے ۔ دونوں راہنماں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے رہنمابھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں موجودہ ملکی صورت حال پر تفصیل سے غور کےا گےا۔ اس امر پر اتفا ق پاےا گےا کہ ملک ہر شعبہ زندگی میں زوال کا شکار ہے اور اُسے اقتصادی تباہ حالی کی گہری دلدل میں دھکیل دےا گےا ہے۔ معیشت کے تمام اعشا رےے شدید بحران کی طرف جا رہے ہےں۔ پاکستان کو عالمی ساہو کا روں کے پاس گروی رکھ دےنے اور قومی ادارے غیروں کے سپر د کر دےنے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ،افراطِ زر (مہنگائی) کی بڑھتی ہوئی شرح، دس ماہ میں ریکارڈ قرضوں کے باوجود زرمبادلہ کے کمزور ہوتے ذخائر، سٹاک ایکسچےنج کی بحرانی صورت حال ، قومی شرح نمود (G.D.P.) کانصف رہ جانا،بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کا رُک جانا، ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ ، سی پیک کی سُست رفتاری ، حکومتی دعووں اور قومی سطح پر چھائی مایوسی و بے ےقینی نے پاکستان کو بحران میں مبتلا کر دےا ہے کہ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ دس ماہ میں دو منی بجٹ دینے کے بعد حکومت کے پہلے قومی بجٹ نے نہ صرف معیشت کے سنبھلنے کے تمام امکانات ختم کر دئےے ہےں بلکہ عام آدمی پر ٹیکسوں اور مہنگا ئی کا نا قابل برداشت بوجھ لاد دےا ہے۔ غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ ، مزدور ، محنت کش ، کسان اور ملازمت پیشہ افراد کےلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ بجلی ، گیس، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہےں۔ ملاقات کے دوران چئیرمین ، نیب کی یک طرفہ انتقامی کاروائیوں اور حکومتی ملی بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگیٹڈ (Targeted) سلوک پر بھی غور کیا گےا۔ نیب کے جعلی ، بے بنیاد اور من گھٹرت مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اتفاق کےا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی۔ دونوں قومی حماعتوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دھاندلی زدہ انتخابات کے جعلی نتائج کو نظر انداز کرتے ہوتے مثبت طرز عمل اپنایا لیکن دس ماہ کے دوران حکومت کی نا اہلیت نے نہ صرف معیشت بلکہ قومی سیاست و انتظامی کارکردگی کو بھی تما شا بنا دےا ہے۔ حکومتی رویے نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دےا ہے۔ قانون سازی کا عمل رُک گےا ہے۔ اُن کے منصب کے منافی ہے۔سلیکٹڈ وزیر اعظم اور نالائق حکومت کے طرز عمل سے عالمی سفارتی سطح پر بھی ملک کی رسوائی ہو رہی ہے۔

ملاقات میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا ذکر بھی آیا۔ دونوں راہنماﺅں نے اسے ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ انہوں نے عوام کی مشکلات اور نااہل حکومت کی عوام دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے احتجاجی تحریک کی پارلیمان کے اندر اور باہر مشترکہ حکمتی عملی پر بھی بات ہو ئی ۔ بنیا دی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں ، میڈےا کی آزادی سلب کرنے ، صحافیوں پر حملوں، اپوزیشن کی آواز دبانے کےلئے سخت گیر ہتھکنڈوں اور سنسر شپ کی مذمت کی گئی ۔ اس امر پر اتفاق پاےا گےا کہ موجودہ نااہل اور غیر نمائندہ حکومت کا جاری رہنا عوام اور ملک کو تباہی و بربادی اور اےسے المیے سے دو چار کر سکتا ہے جس کی تلافی ممکن نہےں رہے گی۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے اتفاق کیا کہ آج کی ملاقات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز دونوں جماعتوں کے رہنماﺅںسے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔
دونوں راہنماﺅں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی اور اُن جماعتوں کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے گا۔ مشترکہ حکمت عملی کا دائرہ اُن سیاسی جماعتوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ جنہوں نے پی۔ٹی۔آئی حکومت کے قیام میںاُسے ووٹ دیا تھا یا اُس کی کو لیشن میں شامل ہے. لیکن وہ بھی حکومتی پالیسوں سے اتفاق نہےں کررہے۔

مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی روائیونڈ میں ملاقات میں اہم قومی امور پر اتفاق رائے۔
اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے خلاف حکومتی ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ ۔
اعلی عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔
دونوں رہنماﺅں کی جج صاحبان کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی شدید مذمت ۔
دونوں جماعتوں کا عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق ۔
دونوں رہنماﺅں کا سپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ ۔
سپیکر قومی اسمبلی جانبدارانہ رویہ ترک کریں۔

قواعد و ضوابط اور پارلیمانی رواےت کے مطابق تمام پابند سلاسل قومی اسمبلی کے ممبران کے فوری طور پر پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائےں۔ تاکہ وہ عوام دشمن بجٹ پر اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کر سکےں اور اپنی رائے دے سکےں۔

بلاول بھٹو زرداری نے ظہرانے کی دعوت پر مریم نواز کا شکرےہ ادا کےا ۔ مریم نواز نے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی آمد ، بالخصوص جیل میں محمد نواز شریف کی مزاج پرُسی کےلئے جانے پر اُ ن کا شکرےہ ادا کیا۔

ترجمان چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا ہے

ترجمان چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور حزب اختلاف کی دیگر پارٹیوں نے فیصلہ کیا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور بجٹ کو بہت توجہ کے ساتھ سنیں گے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا تھا کہ توقع تھی کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی جانب سے تھوپا گیا ہوگا اور اس کے علاوہ کٹھ پتلی حکومت نے حزب اختلاف کے خلاف ظلم اور جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اسے احتساب کا نام دیا جا رہا ہے۔ چیئرمین پی پی پی تو اس بات پر بھی تیار تھے کہ اگر بجٹ عوام دوست ہوا اور اس بجٹ سے مہنگائی، افراط زر اور بیروزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو ریلیف ملے گا تو وہ اسے سراہیں گے۔ حزب اختلاف کے اراکین کو کو بجٹ کی کاپیاں نہیں دی گئیں اس لئے چیئرمین پی پی پی کو وہیں بیٹھ کر بجٹ کی پوری تقریر سننا پڑی اور جب ٹیکس لگانے کی باتوں کا مرحلہ آیا تو وہ یہ سن کر حیران اور پریشان ہوگئے کہ بجائے ٹیکسوں کی سونامی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے ٹیکسوں کا ایک اورنیا سونامی غریب عوام پر مسلط کر دیا گیا۔ ان ٹیکسوں کے بعد اب یہ مشکل ہوگیا ہے کہ پاکستان میں تجارت کی جا سکے اور اس کے نتیجے میں افراط زر اور بیروزگاری کا طوفان آئے گا۔ جس بات کا سب سے زیادہ ڈر تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی جانب سے ڈکٹیٹ کیا گیا بجٹ ہوگا وہ درست ثابت ہوا۔ ترجمان بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے یاد دلایا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر مہیا کرے گی لیکن ان ٹیکسوں کے بعد یہ وعدہ پورا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے حال ہی میں اسمبلی کی خواتین اراکین پر حملے اور تشدد کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے دو اراکین قومی اسمبلی، بینظیرآباد سندھ کے ایک رکن قومی اسمبلی اور لاہور سے بھی ایک رکن قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے گئے۔ ان اراکین اسمبلی کو اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی ترجمانی کے حق سے ایسے وقت محروم کر دیا گیا جب وسائل مختص کئے جا رہے ہیں اور اس کے لئے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی غیرجانبدار کسٹوڈین آف دی ہاﺅس کی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ اسپیکر کی جانب سے غیرجانبداری کا مظاہر ہ نہ کرنے پر انہوں نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ چیئرمین پی پی پی نے اس بات پر بھی سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ کٹھ پتلی حکومت عوام دوست بجٹ لانے میں اپنی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے ناکام ہوگئی ہے اور بجٹ بنانے کے لئے اس نے بیرونی ڈکٹیشن لی ہے۔ چیئرمین پی پی پی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ کٹھ پتلی حکومت ہر قسم کا اخلاقی اور سیاسی جواز کھو چکی ہے۔ چیئرمین پی پی پی نے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا کہ صدر آصف علی زردری، اراکین قومی اسمبلی علی وزیر، محسن داوڑ اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر فوری طور پر جاری کئے جائیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا اسپیکر قومی اسمبلی سے باضابطہ استعفی کا مطالبہ

آئی ایم ایف کے تجویز کردہ بجٹ کے نفاذ کا خوف درست ثابت ہوچکا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کٹھ پتلی حکومت حق حکمرانی کھوچکی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

بجٹ سے توجہ ہٹانے کیلئے پہلے احتساب کے نام پر اپوزیشن راہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

حکومت کی جانب سے باوجود خوف پھیلانے کے بجٹ اجلاس کو توجہ سے سننے کا فیصلہ کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

اگر بجٹ عوام دوست ہوتا تو میں حکومت کی حوصلہ افزائی کیلئے تیار تھا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

بجٹ تقریر کی نقول اپوزیشن کو مہیا نہیں کی گئیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

بے بس عوام پر ٹیکسوں کا سونامی لادنے پر انتہائی تشویش ہے، ترجمان

یہ بالکل واضح ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے کاروباری ادارے اپنی تجارت نہیں کرسکتے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

ٹیکسوں کی بھرمار میں ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کے وعدوں کی تکمیل کہیں نظر نہیں آئی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

اسپیکر قومی اسمبلی خواتین ارکان اسمبلی پر تشدد کا نوٹس لینے میں ناکام نظر آئے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب کے گرفتار اراکین اسمبلی کے پراڈکشن آرڈرز کا اجراء نہیں ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

جب گرفتار ارکان اسمبلی کے انتخابی حلقوں کے وسائل کی تقسیم کا معاملہ ہوا، وہ ایوان میں موجود نہیں تھے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

اسپیکر قومی اسمبلی غیرجانب دار کسٹوڈین کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

اب وقت آچکا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اپنے عہدے سے استعفی دے دیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا آصف زرداری، علی وزیر، محسن داوڑ اور سعد رفیق کے پراڈکشن آرڈرز کے اجرا کا مطالبہ

کٹھ پتلی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کٹھ پتلی حکومت نے بیرون ملک سے مسلط کردہ کردہ بجٹ کو پیش کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کٹھ پتلی حکومت اخلاقیات کا جنازہ نکال کر اپنے وجود کو برقرار رکھنے کا سیاسی جواز تک کھوچکی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری