Uncategorized

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے یوم جمہوریت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صرف جمہوریت ہی ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے یوم جمہوریت کے موقع پر اپنے پیغام میں 
کہا ہے کہ صرف جمہوریت ہی ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ بااختیار پارلیمنٹ 
جمہوریت کا اصل چہرہ ہے۔ آج جمہوریت یرغمال اور پارلیمنٹ بے اختیار ہے۔ 
اپنے پیغام میں سابق صدر نے کہا کہ بھٹو خاندان کا تیسری نسل جمہوریت کے 
دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا پرچم کبھی بھی سرنگوں 
ہونے نہیں دیں گے۔ جیل اور مشکلات سے حوصلہ پست نہیں ہو سکتا۔ سابق صدر آصف 
علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی طاقت کا سرچشمہ صر ف عوام کی 
سمجھتی ہے۔ عوام کی حکمرانی اور ملک کے مستقبل کے تمام فیصلے پارلیمنٹ کلا 
اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں 
کریں گے۔ آصف علی زرداری نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ جمہوریت کا پرچم 
مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی مرکزی خواتین رہنما نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کشمیر کے مسئلے پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے

پاکستان پیپلزپارٹی مرکزی خواتین رہنما نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان 
کشمیر کے مسئلے پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی پر عمل کرنا 
چاہیے۔ اگر وزیراعظم پہلے دن سے کشمیر کے سفیر بنتے تو آج تک 40ممالک کے 
سربراہان سے ملاقاتیں کر چکے ہوتے ۔ ملک میں بیروزگاری، مہنگائی اور معیشت 
کا برا حال ہے لیکن وزیراعظم کی ٹیم ملک میں انتشار پھیلا رہی ہے۔ وفاقی 
حکومت نے سندھ پر گورنر راج لگانے، فارورڈ بلاک بنانے اور اب 149 لگانے کی 
کوشش کی ہے لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ہوتے ہوئے 
سندھو دیش نہیں بن سکتا کیونکہ پیپلزپارٹی وفاق کی زنجیر ہے۔ پارلیمنٹ کے 
مشترکہ اجلاس میں جو کچھ ہوا اس کے ذمے دار صدر پاکستان ہیں کیونکہ اگر وہ 
کہتے کہ پارلیمان پورا ہوگا تو میں خطاب کروں گا تو یہ صورتحال سامنے نہ 
آتی۔ وزیراعظم کے مظفرآباد کے جلسے میں اداکاروں، گلوکاروں اور بلے بازوں 
کو متعارف کرایا گیا کیا اس سے تو اب مودی کانپ رہا ہوگا۔ آرایس ایس 1925 
سے بنی ہے لیکن ہمارے وزیراعظم پھر بھی مودی کے منتخب ہونے کی دعائیں کرتے 
رہے۔ لائن آف کنٹرول پر جانے کے لئے عوام، فوج اور پیپلزپارٹی کو وزیراعظم 
کے حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ 149 پر لاک کرنا ہے تو سب سے پہلے پشاور میں ہونا 
چاہیے کیونکہ وہاں بی آرٹی کا منصوبہ لوگوں کے قبروں میں جانے تک ختم نہیں 
ہونے والا۔ ملکی موجودہ سیاسی صورتحال میں ہوسکتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی 
مولانا فضل الرحمن سے پہلے سڑکوں پر نکل آئے۔ ان خیالات کا اظہار 
پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ، ڈپٹی سیکریٹری 
اطلاعات پلوشہ خان اور سینیٹر روبینہ خالد نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے 
ہوئے کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈھوکی اور کیپٹن واصف 
بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم 40دن بعد 
مظفرآباد میں پہنچے جبکہ کشمیری 40دنوں سے ایک کرب سے گزر رہے تھے اور لوگ 
انتظار کر رہے تھے کہ وزیراعظم کوئی بڑا اعلان کریں گے لیکن وزیراعظم نے 
صرف یہی کہا کہ میں دنیا میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔اگر وہ 40دن پہلے سفیر 
بن کر جاتے تو وہ 40 ممالک کے سربراہان سے کشمیر کے حوالے سے ملاقاتیں کر 
سکتے تھے۔ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں 
پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہے وہاں تو پہلے بھی بہت بڑی بڑی تقریریں ہوئی ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی کو فالو کریں لیکن 
نقل کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر ملک کے لوگ آپ کے ساتھ 
ہیں لیکن پیچھے بھی دیکھیں کہ ملک میں بیروزگار اور معیشت تباہ وہ چکی ہے 
لیکن آپ کے وزراءملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں جس کی وجہ سے کشمیر کے ایشو 
کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ سندھ پر پہلے گورنر راج لگانے کی کوشش کی گئی 
پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کی گئی اور اب 149 کی باتیں کی 
جا رہی ہیں لیکن ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کا ایک ہی حصہ توڑ 
مروڑ کا پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو وفاق پر حملہ کرے گا ہم 
ان کا مقابلہ کریں گے۔ صدر پاکستان نے پہلے سپریم کورٹ پر، پھر الیکشن 
کمیشن اور اب پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہے۔ ایک دن پارلیمنٹ کا اجلاس بلاتے ہیں 
تو دوسرے دن کینسل کر دیتے ہیں۔پلوشہ خان نے کہا کہ مظفرآباد میں اداکاروں، 
گلوکاروں اور بلے بازوں کو متعارف کرایا گیا۔ ان کی وجہ سے تو آج مودی کانپ 
رہا ہو جبکہ بھارت کے آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ اب مظفرآباد پر حملہ کرنے جا 
رہے ہیں، گانے اور ٹھمکے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی 
صورتحال میں یہ بھی ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمن سے پہلے سڑکوں 
پر آسکتی ہے۔ جس وزیراعظم نے کشمیر کا جھنڈا اٹھانے سے انکار کیا آج وہ 
اپنے آپ کو کشمیر کا سفیر کہہ رہا ہے۔ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم 
ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں لیکن وہ اس وقت کشمیر فروخت کرکے آئے تھے۔ بارڈرز 
پر پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں لیکن ایل او سی کے دوسری طرف وزیراعظم 
اپنے جلسے میں گلوکاروں کو بلے بازوں کو متعارف کرا رہے ہیں۔ آرایس ایس کی 
تاریخ 1925 سے ہے لیکن وزیراعظم مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کی دعائیں کرتے 
رہے ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ کا خاندان انگریزوں کے لئے خدمات انجام دیتا رہا 
ہے۔ ایل او سی پر پاکستان پیپلزپارٹی فوج اور عوام کو وزیراعظم کے حکم کی 
ضرورت نہیں وہ جب چاہیں گے ایل او سی کو کراس کریں گے۔ سینیٹر روبینہ خالد 
نے کہا کہ 149 کا اطلاق سب سے پہلے پشاور میں ہونا چاہیے۔ پشاور میں بی 
آرٹی منصوبہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ پشاور کے مسائل کو سامنے نہیں 
لایا جاتا لیکن کراچی میں کچرے کی باتیں سب کرتے ہیں۔ کے پی میںڈینگی پولیو 
نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ ملک میں اپنے لوگوں کو نوازنے کے لئے تمام ٹھیکے 
دئیے جا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی نائب صدر اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے کہا

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی نائب صدر اور سینیٹ میں پارلیمانی 
لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے چیئرمین بلاول بھٹو 
زرداری کے بیان کو سنے بغیر تبصرہ کر دیا۔ حکومت سیاسی مخالفت میں ملک دشنی 
کے الزامات پر اتر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 
سندھو دیش اور پختونستان کے تصورات کی مذمت کی۔ انہوں نے حکومتی اراکین کو 
چیلنج کیا کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان سے ملک دشمنی کا کوئی 
پہلو نکال کر دکھائیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے اٹھارہویں ترمیم کرکے 
سندھودیش اور پختونخوا کا نعرہ لگانے والوں کی سیاسی کو ختم کردیا اور آج 
بھی وہ علیحدگی پسندوں کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ اور طاقت ہیں۔

سابق چیئرمین سینِٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرِٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے

سابق چیئرمین سینِٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرِٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ نے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کی شدید 
مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر آعظم نے پارلیمان کو بے توقیر کرنے 
میں کسر نہیں چھوڑی آصف زرداری کو پارلیمنٹ بااختیار بنانے کی سزا مل رہی 
ہےآرڈیننس سرکار میں عوامی سیاسی قیادت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں۔ سید نیر 
حسین بخاری نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس 
سے آصف زرداری سمیت اپوزیشن ممبران ارکان کی غیر حاضری تشویشناک ہے۔ انہوں 
نے کہا کہ آصف علی زرداری اور دوسرے اپوزیشن ارکان کی غیر حاضری کی ذمہ دار 
حکومت ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو غیرجانبداری کا مظاہرہ 
کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی بجائے پورے ایوان کا سپیکر ہونا چائییے۔ نیر بخاری 
نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرینس کو حکمرانوں کا گھٹیا پن اور خالی 
الدماغ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے 
خلاف حکومتی ریفرنس حکومتی بد نیتی سامنے آگئی ہے۔حکمرانوں کی اداروں کو 
تاابع بنانے کی پالیسی ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ 
پاکستان پیپلز پارٹی صاف شفاف اور آزادانہ انتخاب یقینی بنانے کیلئے آزاد 
اور خود مختار الیکشن کمیشن کی حامی ہے اور رہے گی۔ اہم ترین آیینی ادارے 
کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھانے والے حکمرانوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا 
ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے غیر آیینی نامزد ممبران کے حلف سے 
معذرت کرکے آیین و قانون کی سربلندی کا فریضہ سرانجام دیا۔ نیر بخاری نے 
کہا کہ غیر قانونی اقدام کو نہ ماننے پر چیف الیکشن کمیشنر سردار رضا خان 
کو ہٹانے کی کوشش مطلق العنانیت سوچ کی عکاسی ہے۔ نیر بخاری نے حکمرانوں کو 
متنبہہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں کو قومی ادارے رہنے دیا جائے سرکاری جماعت 
کے دفاتر نہ سمجھا جائے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے دھرتی ماں کے لئے جانیں قربان کرنے والے قوم کے بہادر بیٹوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے

 سابق صدر آصف علی زرداری نے دھرتی ماں کے لئے جانیں قربان کرنے والے قوم 
کے بہادر بیٹوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اپنے بہادر 
جوانوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ سابق صدر نے کہا کہ دھرتی ماں کی سرحدوں کی 
حفاظت کرنے والے جوان قوم کی آنکھوں کا نور ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ شہیدوں 
کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے شدت پسندی کو شکست دینے کے عزم کی تجدید 
ضروری ہے۔ قوم وطن کے ان فرزندوں کو کبھی نہیں بھولے گی جنہوں نے معصوم 
انسانوں کا خون بہانے والوں کا صفایا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 
پیپلزپارٹی شہداءکے لواحقین کے ساتھ ہے اور انہیں عزت و احترام کی نظر سے 
دیکھتی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار نہیں 
رہ سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی جبر اور ظلم سے آزادی ضرور ملے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات و لیبر سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات و لیبر سعید 
غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت کیا جا 
رہا ہے،سابق صدر و ایم این اے آصف علی زرداری کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے 
وہ احسان اللہ احسان، ابھی نندن اور کلبھوشن جادویو کے ساتھ بھی نہیں کیا 
گیا،اگر پیپلز پارٹی کے رہنماو ¿ں کے کیسز کو سندھ سے پنجاب یا اسلام آباد 
منتقل کیا جا سکتا ہے تو پی ٹی آئی کے رہنماو ¿ں کے مقدمات کو سندھ منتقل 
کیوں نہیں کیا جاسکتا،آصف علی زرداری کو عدالتی حکم کے باوجود سہولیات 
فراہم نہیں کی جارہی اور ڈاکٹروں کے بورڈ کی ہدایت کے باوجود انکو ہسپتال 
منتقل نہیں کیا جا رہا،پیپلز پارٹی کو اس لئے دباو ¿ میں لانے کی کوشش کی 
جا رہی ہے کہ وہ اپنا موقف تبدیل کریں لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کو 
قبول کیا لیکن موقف تبدیل نہیں کیا آصف علی زرداری نے گیارہ سال جیل کاٹی، 
ظلم برداشت کیا اور ان کا بھی موقف تبدیل نہیں ہو گا اس سلوک کا سندھ میں 
کوئی ٹھیک پیغام نہیں جا رہا اپوزیشن کیلئے احتساب کا معیار اور ہے اور 
حکومتی رہنماو ¿ں کیلئے معیار اور ہے،پیپلز پارٹی نے میڈیا،عدلیہ کی آزادی 
اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کی ہے اور نالائق حکومت کے خلاف آواز 
اٹھائی ہے یہ ہمارا جرم ہے جس کی وجہ سے دباو ¿ میں لانے کی کوشش کی جا رہی 
ہے، پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیشہ کرپشن کارڈ استعمال ہوتا رہا ہے،سندھ میں 
کچھ سیاسی یتیم ہیں جن کو ہر چھ ماہ بعد ٹیکہ لگایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی 
کی حکومت جانے والی ہے۔ عدلیہ سے گزارش ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ رویہ 
آئین اور قانون کے مطابق رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل 
پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، ان کے ساتھ صوبائی 
وزیر امتیاز شیخ ناصر سیال، ناصر شاہ ،سید سردار علی شاہ ، سہیلی انور 
سیال، میر شبیر بجارانی ،عبدالباری پتافی، مکیش چاولہ، ایم پی.ایز ندا 
کھوڑو ، سعدیہ جاوید ، سنجیلہ لغاری ، شرجیل انعام میمن، محمد قاسم سومرو 
،ذوالفقار علی شاہ ، فرخ علی شاہ ،ممتاز جاکھرانی . شامل تھے اس موقع پر 
سینیٹر روبینہ خالد ، سینیٹر کرشنا کولھی اور نذیر ڈھوکی بھی موجود تھے 
،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے اس کی مثال کسی 
اور پارٹی سے نہیں ملے گی، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل کورٹ کی بجائے اعلیٰ 
عدلیہ میں چلایا گیا اور ان کو پھانسی دے دی گئی جو ایک سیاہ فیصلہ تھا آج 
بھی کوئی عدالت اس فیصلے کو ماننے پر تیار نہیں، بینظیر کو راولپنڈی میں 
قتل کر دیا گیا، آصف علی زرداری نے گیارہ سال بے گناہ جیل کاٹی اور اب ایک 
اور سیاسی انتقام کی تاریخ رقم کی جارہی ہے،پیپلز پارٹی کے رہنماو ¿ں پر جو 
الزامات ان کا تعلق سندھ سے ہے جبکہ ان کا ٹرائل اسلام آباد اور پنجاب میں 
کیا جا رہا ہے اور اس کے اسباب یہ بتائے جا رہے ہیں سندھ میں پیپلز پارٹی 
کی حکومت ہے اور سندھ حکومت ان فیصلوں پر اثر انداز ہو گی اگر انہی اسباب 
کو تسلیم کر لیا جائے تو ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے جن 
اراکین پر نیب کے الزامات ہیں ان کا ٹرائل سندھ میں کرایا جائے تو ہم 
سمجھیں گے کہ ان کی یہ لاجک درست ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ صرف انتقامی 
کاروائی تصور ہو گی، انہوں نے کہا کہ سندھ کے ججوں اور نیب کے افسران کا 
تقرر وفاق سے کیا جاتا ہے اور سندھ میں ٹرائل کا نہ ہونا ججوں پر عدم 
اعتماد ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ صدر اورسابق صدر 
پاکستان اور موجودہ رکن قومی اسمبلی کے ساتھ وہ نارواسلوک کیا جا رہا ہے جو 
کلبھوشن جادیو، احسان اللہ احسان اور ابھی نندن کے ساتھ بھی نہیں ہوا ہم 
مطالبہ کرتے ہیں یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں جو نہ ابھی تک ثابت ہوئے ہیں 
اور نہ آئندہ ہونگے، یہ صرف عوام کو گمراہ کرنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو 
دیوار کے ساتھ لگانے کیلئے کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نہ 
احتساب کے خلاف ہے اور نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں پر سمجھوتا کرے گی، انہوں نے 
کہا کہ جو افراد پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ان کے 
خلاف مقدمات بھی ختم ہو گئے، لیکن ہم کسی دباو ¿ میں نہیں آئیں گے، ہم 
مطالبہ کرتے ہیں کہ پرویز خٹک، محمود خان، حلیمہ خان، پرویز الٰہی،اسد 
قیصراور دیگر برسر اقتدار شخصیات جن پر الزامات ہیں انہیں فی الفور گرفتار 
کیا جائے اور انکے خلاف آئین و قانون کے مطابق یکساں کاروائی کی جائے۔پیپلز 
پارٹی میڈیا اور عدلیہ کی آزادی،پارلیمنٹ کی بالادستی اور انسانی حقوق کی 
بات کرتی ہے اورحکومت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے یہی پیپلز پارٹی اور اسکی 
قیادت کا جرم ہے، انہوں نے کہا کہ حکمران چاہتے ہیں کہ چیئرمین پی پی پی 
بلاول بھٹو زرداری کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے تاکہ 
چیئرمین بلاول بھٹو کے موقف کو تبدیل کیا جا سکے لیکن ان کو پتہ نہیں کہ 
بھٹو خاندان پھانسی چڑھ جاتا ہے، سزائیں برداشت کر لیتا ہے، جلا وطنی کاٹ 
لیتا ہے مگر موقف تبدیل نہیں کرتا۔

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس 
کی مد میں صنعتی شعبے کو 228ارب روپے کی بخشش کا معاملہ پارلیمان میں 
اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ 
ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ہدایات کی ہے کہ وہ قومی خزانے کی 
بندربانٹ کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ 
صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس چھوٹ انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ بڑے اداروں کو 
سبسڈی دے کر شہریوں کے ٹیکس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ 
قومی خزانے پر ڈاکہ ڈال کر سرکاری جماعت اور حکومتی شراکت داروں میں 
بندربانٹ شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ عوام کو گیس، 
بجلی اور اشیائے ضروریات پر سبسڈی دینے کی بجائے امراءپر نوازشات کی کیا 
وجوہات ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مالی مددگاروں پر نوازشات عوام 
دشمنی کی ایک اور مثال ہے۔ اشرافیہ کی نمائندہ حکومت امیروں کو مزید امیر 
ترین کر رہی ہے جبکہ عام لوگوں کا معاشی استحصال کر رہی ہے۔

آصف علی زرداری کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے : سینیٹر شیری رحمان

نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی اور سینیٹ میں پارٹی کی پارلیمانی لیڈر 
سینیٹر شیری رحمان نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ سابق صدر آصف علی 
زرداری کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا 
کہ اس بات کے باوجود کہ سابق صدر زرداری پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا 
لیکن پھر بھی جو سلوک صدر زرداری کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ حکومت کی نیت کو 
بے نقاب کرتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے نیب کو استعمال کر رہی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ پی پی پی کبھی بھی احتساب سے خوفزدہ نہیں رہی لیکن حکومت 
کو احتساب کو سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کے لئے اور انہیں نشانہ بنانے کے 
لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے اپنے خلاف کوئی بھی عدالتی 
فیصلہ نہ آنے کے باوجود ساڑھے گیارہ سال جیل میں گزارے ہیں اور ہمیں یہ بات 
کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خاموش نہیں کیا جا سکتا اور 
ہم اپنی آواز ایک ایسے نظام کے خلاف اٹھاتے رہے گے جہاں ایک ڈکٹیٹر جس پر 
غداری کا الزام ہونے کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہوتا جبکہ سیاستدانوں 
کے خلاف تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوتیں اور انہیں پابند سلاسل کر دیا جاتا 
ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈاکٹروں نے بشمول نیب کے ڈاکٹروں نے یہ کہا ہے کہ 
سابق صدر زرداری کی طبیعت اتنی خراب ہے کہ انہیں ہسپتال سے باہر نہ رکھا 
جائے۔ حکومت کی جانب سے سابق صدر زرداری کو ہسپتال سے جیل منتقل کرنا ان کی 
زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہو 
جاتا ہے تو موجودہ حکومت قاتل ٹھہرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کس طرح صرف 
تحقیقات کے دوران کسی کو قانون کے خلاف اس قسم کی سزا دی جا سکتی ہے؟ حکومت 
کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ صدر آصف علی زرداری کو دوبارہ ہسپتال 
منتقل کر دے گی۔ نیب پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صدر زرداری کی طبی 
رپورٹیں منظر عام پر نہ لائے اور ڈاکٹروں پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ صدر 
زرداری کو اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیں حالانکہ ان کی طبیعت کی خرابی پر 
انہیں مناسب طبی سہولیات دینی چاہیے تھیں۔ صدر زرداری کے ڈاکٹروں نے ان کی 
صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو مطلع کیا ہے کہ صدر زرداری کے دل کی تین 
شریانے بلاک ہیں اور انہیں کمر کی تکلیف بھی ہے جو انہیں ساڑھے گیارہ سال 
جیل میں رکھنے کے دوران پیدا ہوئی تھی اور اب وہ تکلیف دوبارہ شروع ہوگئی 
ہے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ اگر حکومت کی زد کی وجہ سے صدر زرداری کی 
صحت مزید خراب ہوئی تو حکوتم ذمہ دار ہوگی۔ جب صدر زرداری کی صاحبزادی 
عدالتی حکمنامے کے ساتھ ان سے ملنے ہسپتال گئیں تو صدر زرداری کو تیس پولیس 
افسروں نے گھیر لیا۔ خواتین پولیس نے آصفہ بھٹو زرداری کو دھکے دئیے اور ان 
کو ان کے والد سے ملنے سے جسمانی طور پر روکا۔ وہ چاہتے تھے کہ بیٹی باپ کا 
منہ بھی نہ دیکھ سکے۔ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف اب دوبارہ جیل بھیج دیا گیا 
ہے۔ کیا مدینہ کی ریاست جو عمران خان قائم کرنا چاہتے میں سابق صدر جن پر 
کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ایسا برتاﺅ کیا جاتا ہے؟ یہ حکومت کہہ رہی ہے کہ 
کشمیریوں کے ساتھ بھارتی ریاست ظلم کر رہی ہے جبکہ یہ حکومت ملک کے اندر 
حزب اختلاف سے اتنی خوفزدہ ہے کہ ایک بیٹی کو اس کے بیمار باپ سے ملنے نہیں 
دے رہی۔ عوامی نمائندوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے جو دہشتگردوں 
کے ساتھ کرنا چاہیے۔ حکومت اپنے جعلی انصاف اور احتساب کے پیچھے چھپنا 
چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے معاشی اور سیاسی ناکامی کو چھپا سکے۔ عوام پی ٹی آئی 
کی حکومت میں مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں اب انہوں نے خود 
دیکھ لیا ہے کہ یہ سلیکٹڈ حکومت کس طرح اپنے وعدوں سے پھر گئی۔ نہ لاکھوں 
گھر تعمیر کر سکی، نہ کروڑ نوکریاں پیدا کر سکی اور نہ لوٹی ہوئی رقم واپس 
لا سکی۔ شیری رحمن نے سوال کیا کہ جس دولت کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا وہ 
کہاں ہے؟ جبکہ متعدد اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کرنے کے باوجود ایک پائی بھی 
واپس نہیں لائی جا سکی۔ یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔

--

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے مالی سہولت کاروں کے ذمے 300 
ارب روپے معاف کرنے کے عمل کو ملکی تاریخ میں کرپشن کا سب سے بڑا اسکینڈل 
قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی آئی ڈی سی کے 300 ارب روپے صنعتکاروں کو معاف 
کرنے پر نیب ریفرنس دائر کرے۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر 
نے کہا ہے کہ یہ عوام کے پیسے تھے جو قومی خزانے کو منتقل ہونے تھے وہ کیسے 
معاف کئے جا سکتے ہیں؟ یہ عمل ملکی تاریخ میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل ہے۔ 
عمران خان نے اپنے مشیروں کی کمپنیوں کو قوم کے اربوں روپے بخشیش کے طور پر 
معاف کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رزاق داﺅد کے خاندان کی کمپنی کو اربوں روپے 
معاف کرنا مفادات کے ٹکراﺅ کی بدترین مثال ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے 
کہا کہ ملک میں کوئی آئین ہے نہ قانون۔ لوٹ مار کا راج چل رہا ہے۔ پشاور 
میں تو مالم جبہ اور مذکورہ اسکینڈل پر نیب کا حرکت میں نہ آنا سلیکٹڈ 
احتساب نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے مالی سہولت کاروں کے ذمے 300 
ارب روپے معاف کرنے کے عمل کو ملکی تاریخ میں کرپشن کا سب سے بڑا اسکینڈل 
قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی آئی ڈی سی کے 300 ارب روپے صنعتکاروں کو معاف 
کرنے پر نیب ریفرنس دائر کرے۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر 
نے کہا ہے کہ یہ عوام کے پیسے تھے جو قومی خزانے کو منتقل ہونے تھے وہ کیسے 
معاف کئے جا سکتے ہیں؟ یہ عمل ملکی تاریخ میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل ہے۔ 
عمران خان نے اپنے مشیروں کی کمپنیوں کو قوم کے اربوں روپے بخشیش کے طور پر 
معاف کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رزاق داﺅد کے خاندان کی کمپنی کو اربوں روپے 
معاف کرنا مفادات کے ٹکراﺅ کی بدترین مثال ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے 
کہا کہ ملک میں کوئی آئین ہے نہ قانون۔ لوٹ مار کا راج چل رہا ہے۔ پشاور 
میں تو مالم جبہ اور مذکورہ اسکینڈل پر نیب کا حرکت میں نہ آنا سلیکٹڈ 
احتساب نہیں ہے تو اور کیا ہے؟