Uncategorized

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس 
کی مد میں صنعتی شعبے کو 228ارب روپے کی بخشش کا معاملہ پارلیمان میں 
اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ 
ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ہدایات کی ہے کہ وہ قومی خزانے کی 
بندربانٹ کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ 
صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس چھوٹ انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ بڑے اداروں کو 
سبسڈی دے کر شہریوں کے ٹیکس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ 
قومی خزانے پر ڈاکہ ڈال کر سرکاری جماعت اور حکومتی شراکت داروں میں 
بندربانٹ شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ عوام کو گیس، 
بجلی اور اشیائے ضروریات پر سبسڈی دینے کی بجائے امراءپر نوازشات کی کیا 
وجوہات ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مالی مددگاروں پر نوازشات عوام 
دشمنی کی ایک اور مثال ہے۔ اشرافیہ کی نمائندہ حکومت امیروں کو مزید امیر 
ترین کر رہی ہے جبکہ عام لوگوں کا معاشی استحصال کر رہی ہے۔

آصف علی زرداری کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے : سینیٹر شیری رحمان

نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی اور سینیٹ میں پارٹی کی پارلیمانی لیڈر 
سینیٹر شیری رحمان نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ سابق صدر آصف علی 
زرداری کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا 
کہ اس بات کے باوجود کہ سابق صدر زرداری پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا 
لیکن پھر بھی جو سلوک صدر زرداری کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ حکومت کی نیت کو 
بے نقاب کرتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے نیب کو استعمال کر رہی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ پی پی پی کبھی بھی احتساب سے خوفزدہ نہیں رہی لیکن حکومت 
کو احتساب کو سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کے لئے اور انہیں نشانہ بنانے کے 
لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے اپنے خلاف کوئی بھی عدالتی 
فیصلہ نہ آنے کے باوجود ساڑھے گیارہ سال جیل میں گزارے ہیں اور ہمیں یہ بات 
کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خاموش نہیں کیا جا سکتا اور 
ہم اپنی آواز ایک ایسے نظام کے خلاف اٹھاتے رہے گے جہاں ایک ڈکٹیٹر جس پر 
غداری کا الزام ہونے کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہوتا جبکہ سیاستدانوں 
کے خلاف تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوتیں اور انہیں پابند سلاسل کر دیا جاتا 
ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈاکٹروں نے بشمول نیب کے ڈاکٹروں نے یہ کہا ہے کہ 
سابق صدر زرداری کی طبیعت اتنی خراب ہے کہ انہیں ہسپتال سے باہر نہ رکھا 
جائے۔ حکومت کی جانب سے سابق صدر زرداری کو ہسپتال سے جیل منتقل کرنا ان کی 
زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہو 
جاتا ہے تو موجودہ حکومت قاتل ٹھہرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کس طرح صرف 
تحقیقات کے دوران کسی کو قانون کے خلاف اس قسم کی سزا دی جا سکتی ہے؟ حکومت 
کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ صدر آصف علی زرداری کو دوبارہ ہسپتال 
منتقل کر دے گی۔ نیب پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صدر زرداری کی طبی 
رپورٹیں منظر عام پر نہ لائے اور ڈاکٹروں پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ صدر 
زرداری کو اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیں حالانکہ ان کی طبیعت کی خرابی پر 
انہیں مناسب طبی سہولیات دینی چاہیے تھیں۔ صدر زرداری کے ڈاکٹروں نے ان کی 
صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو مطلع کیا ہے کہ صدر زرداری کے دل کی تین 
شریانے بلاک ہیں اور انہیں کمر کی تکلیف بھی ہے جو انہیں ساڑھے گیارہ سال 
جیل میں رکھنے کے دوران پیدا ہوئی تھی اور اب وہ تکلیف دوبارہ شروع ہوگئی 
ہے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ اگر حکومت کی زد کی وجہ سے صدر زرداری کی 
صحت مزید خراب ہوئی تو حکوتم ذمہ دار ہوگی۔ جب صدر زرداری کی صاحبزادی 
عدالتی حکمنامے کے ساتھ ان سے ملنے ہسپتال گئیں تو صدر زرداری کو تیس پولیس 
افسروں نے گھیر لیا۔ خواتین پولیس نے آصفہ بھٹو زرداری کو دھکے دئیے اور ان 
کو ان کے والد سے ملنے سے جسمانی طور پر روکا۔ وہ چاہتے تھے کہ بیٹی باپ کا 
منہ بھی نہ دیکھ سکے۔ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف اب دوبارہ جیل بھیج دیا گیا 
ہے۔ کیا مدینہ کی ریاست جو عمران خان قائم کرنا چاہتے میں سابق صدر جن پر 
کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ایسا برتاﺅ کیا جاتا ہے؟ یہ حکومت کہہ رہی ہے کہ 
کشمیریوں کے ساتھ بھارتی ریاست ظلم کر رہی ہے جبکہ یہ حکومت ملک کے اندر 
حزب اختلاف سے اتنی خوفزدہ ہے کہ ایک بیٹی کو اس کے بیمار باپ سے ملنے نہیں 
دے رہی۔ عوامی نمائندوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے جو دہشتگردوں 
کے ساتھ کرنا چاہیے۔ حکومت اپنے جعلی انصاف اور احتساب کے پیچھے چھپنا 
چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے معاشی اور سیاسی ناکامی کو چھپا سکے۔ عوام پی ٹی آئی 
کی حکومت میں مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں اب انہوں نے خود 
دیکھ لیا ہے کہ یہ سلیکٹڈ حکومت کس طرح اپنے وعدوں سے پھر گئی۔ نہ لاکھوں 
گھر تعمیر کر سکی، نہ کروڑ نوکریاں پیدا کر سکی اور نہ لوٹی ہوئی رقم واپس 
لا سکی۔ شیری رحمن نے سوال کیا کہ جس دولت کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا وہ 
کہاں ہے؟ جبکہ متعدد اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کرنے کے باوجود ایک پائی بھی 
واپس نہیں لائی جا سکی۔ یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔

--

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے مالی سہولت کاروں کے ذمے 300 
ارب روپے معاف کرنے کے عمل کو ملکی تاریخ میں کرپشن کا سب سے بڑا اسکینڈل 
قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی آئی ڈی سی کے 300 ارب روپے صنعتکاروں کو معاف 
کرنے پر نیب ریفرنس دائر کرے۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر 
نے کہا ہے کہ یہ عوام کے پیسے تھے جو قومی خزانے کو منتقل ہونے تھے وہ کیسے 
معاف کئے جا سکتے ہیں؟ یہ عمل ملکی تاریخ میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل ہے۔ 
عمران خان نے اپنے مشیروں کی کمپنیوں کو قوم کے اربوں روپے بخشیش کے طور پر 
معاف کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رزاق داﺅد کے خاندان کی کمپنی کو اربوں روپے 
معاف کرنا مفادات کے ٹکراﺅ کی بدترین مثال ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے 
کہا کہ ملک میں کوئی آئین ہے نہ قانون۔ لوٹ مار کا راج چل رہا ہے۔ پشاور 
میں تو مالم جبہ اور مذکورہ اسکینڈل پر نیب کا حرکت میں نہ آنا سلیکٹڈ 
احتساب نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے مالی سہولت کاروں کے ذمے 300 
ارب روپے معاف کرنے کے عمل کو ملکی تاریخ میں کرپشن کا سب سے بڑا اسکینڈل 
قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی آئی ڈی سی کے 300 ارب روپے صنعتکاروں کو معاف 
کرنے پر نیب ریفرنس دائر کرے۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر 
نے کہا ہے کہ یہ عوام کے پیسے تھے جو قومی خزانے کو منتقل ہونے تھے وہ کیسے 
معاف کئے جا سکتے ہیں؟ یہ عمل ملکی تاریخ میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل ہے۔ 
عمران خان نے اپنے مشیروں کی کمپنیوں کو قوم کے اربوں روپے بخشیش کے طور پر 
معاف کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رزاق داﺅد کے خاندان کی کمپنی کو اربوں روپے 
معاف کرنا مفادات کے ٹکراﺅ کی بدترین مثال ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے 
کہا کہ ملک میں کوئی آئین ہے نہ قانون۔ لوٹ مار کا راج چل رہا ہے۔ پشاور 
میں تو مالم جبہ اور مذکورہ اسکینڈل پر نیب کا حرکت میں نہ آنا سلیکٹڈ 
احتساب نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

ملک میں عملی طور پر آمریت نافذ کر دی گئی ہے : سید نیر حسین بخاری

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں عملی طور پر آمریت نافذ کر دی گئی ہے۔ کٹھ پتلی 
حکومت آئینی اور انسانی حقوق پامال کر رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے 
کہا کہ بی بی آصفہ بھٹو زرداری کے ساتھ توہین آمیز سلوک کٹھ پتلی پر قرض 
رہے گی اور یہ قرض انہیں چکانا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کس قانون کے تحت 
عدالت کی اجازت کے باوجود ایک بیٹی کو اپنے بیمار والدکی تیمارداری سے روکا 
گیا۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو عدالت کے حکم 
کے باوجود اپنے والد سے ملنے سے روکنا نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ انسانی 
حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صرف آمرانہ 
حکومت ہی کرتی ہے جو نہ عدالت کو مانتی ہے اور نہ ہی انسانی حقوق۔انہوں نے 
کہا کہ جس انداز میں سابق صدر آصف علی زرداری کو ہسپتال سے واپس جیل بھیج 
دیا گیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کٹھ پتلی نیازی حکومت کے دل میں کھوٹ ہے۔ وہ 
سابق صدر کی زندگی سے کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کا طرز 
عمل ہی اس بات کی گواہی ہے کہ اس نے سیاسی انتقام کے ذریعے سیاسی مخالفین 
کو دبانے اور خاموش کرانے کے حربے استعمال کر رہی ہے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا کو مطلع کیا

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی 
زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا کو مطلع کیا 
ہے کہ ان کے والد صدر زرداری کو ہسپتال سے ایک مرتبہ پھر جیل بھیج دیا گیا 
ہے۔ آنسہ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ جمعہ کی صبح وہ اپنے والد سے ملنے پمز 
ہسپتال گئیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ صدر زرداری کو دوبارہ جیل بھیجنے 
کے لئے ان پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے حالانکہ ان کی طبیعت انتہائی خراب ہے اور 
انہیں ہسپتال میں رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مزید ٹیسٹ اور علاج کروا 
سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے دو مرتبہ میڈیکل ٹیسٹ کروائے گئے تھے 
ایک مرتبہ نیب کی جانب سے اور دوسری مرتبہ عدالتی حکام کی جانب سے اور 
دونوں مرتبہ یہ ظاہر ہوا کہ صدر زرداری کو فوری طبی سہولتوں اور علاج کی 
ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے دل کی تین شریانے بلاک ہو چکی 
ہیں اور انہیں اسپائن میں سخت تکلیف ہے جو انہیں گیارہ سال غیرقانونی طور 
پر قید میں رکھنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آصف علی زرداری کو دیگر 
بیماریاں بھی لاحق ہیں اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ آنسہ آصفہ 
بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی یہ مطالبہ کرتی 
ہے کہ صدر زرداری کو فوری طور پر دوبارہ منتقل کیا جائے تاکہ وہ اپنا علاج 
کروا سکیں۔ یہ ان کا پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے بھی حق ہے اور بحیثیت 
سابق صدر پاکستان، ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی بھی ان 
کا حق ہے۔ ان کے حقوق کو جھٹلانا انسانی حقوق کو جھٹلانا ہے اور اس کے ساتھ 
انصاف کو جھٹلانا بھی ہے۔ یہ سیاسی انتقام ہے وہ پاکستان کے واحد ایسے صدر 
ہیں جو عدالتوں سے بھاگ رہے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے 
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کا اعادہ کرتے 
ہوئے کہا کہ اس سلیکٹڈ حکومت کی نیت صاف ظاہر ہے کہ وہ صدر زرداری کی زندگی 
کو خطرے میں ڈالنا چاہتی ہے تاکہ اپنا ایجنڈا پورا کر سکے۔ انہوں نے متنبہ 
کیا کہ اگر صدر زرداری کو کچھ ہوا تو ان کا خاندان اور پارٹی اس سلیکٹڈ 
حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائے گی اور اس کا احتساب کرے گی۔ سابق وزیراعظم راجہ 
پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی ڈاکٹروں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ صدر زرداری کو 
علاج کے لئے ہسپتال میں رکھا جائے لیکن حکومت صدر زرداری کو صحت کی سہولتیں 
مہیا نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری کو فوری طور پر 
ہسپتال منتقل کیا جائے۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس روز جس دن 
سلیکٹڈ وزیراعظم جس نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے لوگوں سے کشمیر میں انسانی 
حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرنے کے لئے کہہ رہا تھا اس دن وہ خود سابق 
صدر کے انسانی حقوق کی خلاف وزریاں کر رہا تھا۔ انہوں نے سلیکٹڈ وزیراعظم 
کو متنبہ کیا کہ وہ اتنا ہی ظلم کریں جتنا ان میں برداشت کرنے کی سکت ہے۔ 
سینیٹر شیری رحمن نے اس حکومت کو یزید کا دربار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 
سلیکٹڈ حکومت اپنا انداز نہیں بدلتی تو اس کے شدید مضمرات ہوں گے اور اسے 
پاکستان پیپلزپارٹی کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آصف علی زرداری کو ڈاکٹرز کی تجویز کے مطابق فوری ہسپتال منتقل کیا جائے: سید نیر حسین بخاری

سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین
بخاری نے آصف علی زرداری کی ناسازی طبیعت پر ڈاکٹروں کی تجویز پر عمل کرنے
کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کو ڈاکٹرز کی تجویز کے
مطابق فوری ہسپتال منتقل کیا جائے منگل کو نیر بخاری نے اپنے بیان میں کہا
ہے کہ حکمران سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل کرنے سے باز رہیں آصف زرداری
بحیثیت شہری بنیادی حقوق کے برابر حقدار ہیں انہوں نے کہا کہ زاتیات کی
بجائے سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کی جائے نیر بخاری نے مزید
کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ انسانی حقوق سلب کرنے والے ریاست مدینہ کے دعویدار
ہیں ازیت پرستی کے مرض میں مبتلا ٹولہ قانون کا احترام کرنا سیکھے ورنہ
پچھتائیں گے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل
کرنے کی شدید مخالف ہے برداشت اور تحمل ہمارا شیوہ ہے لیکن سرخ لکیر عبور
کرنے کی مزاحمت اور مقابلہ کرنا جانتے ہیں نیر بخاری نے کہا کہ آصف زرداری
حکمرانوں کیلئے اعصاب شکن ثابت ہو رہے ہیں آصف زرداری کو آمر مطلق نہ جھکا
سکے تبدیلی سرکار کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے نیر بخاری نے کہا کہ چیرمین
بلاول بھٹو کی رابطہ عوام مہم قومی امور و ¿ معاملات پر ڈٹ کر اظہار خیال
حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے نیر بخاری نے کہا کہ قائد عوام کے نواسے
اور شہید جمہوریت کے فرزند کی زبان بندی کے حربے ہتھکنڈے کبھی کامیاب نہیں
ہو سکتے نیر بخاری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کی انگلی پکڑنے والا بلاول
بھٹو اب آصف زرداری کا بازو ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کینیڈاکےجنرل سیکرٹری راؤمحمدطاہرکی چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بُھٹوزرداری سےاسلام آبادمیں اہم مُلاقات۔

ملاقات میں پیپلزپارٹی اورسیزاورکینیڈاکےتنظیم یمعاملاتپرگفتگو،راؤطاہرنےچیرمین کوکینیڈاکی تنظیم سازی کےبارےمیں اپنی رپورٹ پیشکی۔

بلاولبُھٹو نے نے کہا کہ کینیڈانےہمیشہ انسانی حقوق کے لیے آوازاُٹھائ ہے اوراس سلسلے میں پیپیپی کینیڈامقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےبارےموثرآوازاُٹھا سکتی ہے۔

راؤطاہرنےچیرمین بلاول بُھٹو کو کینیڈا کے دورے کی دعوت دی جوکہ چیرمیں نےقبول کر لی اور وعدہ کیا کہوہاگلےدورہامریکہکےدوران کینیڈا کابھی دورہ ضرورکریںگے۔

پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے خاندان کے افراد اور ان کے وکلاء نے اڈیالا جیل میں ملاقات کی

پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے خاندان کے افراد اور ان کے وکلاء نے اڈیالا جیل میں ملاقات کی، رکنِ قومی اسمبلی میر منور تالپور نے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ اپنی اسیر اہلیہ فریال تالپور سے ملاقات کی۔ سابق صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار اور وکلا ٹیم، غلام مصطفیٰ لغاری اور خانبھادر بھٹی نے فریال تالپور سے اڈیالا جیل ملاقات کی۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ بی کلاس کے نوٹیفیکیشن کے باوجود جیل انتظامیہ کی جانب سے تاحال فریال تالپور کو سہولیات میسر نہیں کی گئیں، جبکہ پروڈکشن آرڈر جاری کیئے جانے کے باوجود فریال تالپور کو سندھ اسیمبلی کے اجلاس میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریال تالپور کی اجلاس میں شرکت کے متعلق سندھ اسیمبلی نے قرارداد بھی منظور کی ہے، لیکن اڈیالا کی جیل انتظامیہ نہیں مانی۔ ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ پنجاب کی جیل انتظامیہ سندھ کے عوام کی منتخب اسمبلی کی توہین کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز اعلی عدالت میں پیٹیشن دائر کی جائیگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نواب یوسف تالپور اور رفیق احمد جمالی نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سمیت قومی اسمبلی کی تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس

کراچی (23 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نواب یوسف تالپور اور رفیق احمد جمالی نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سمیت قومی اسمبلی کی تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی اجازت نہ دیئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں اسمبلی کی آنکھ اور کان ہوتی ہیں، اگر ان کو چلنے نہیں دینا تو پھر اسپیکر کو چاہیئے کہ وہ تمام کمیٹیاں تحلیل کردے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ انہوں نے بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سندھ و پنجاب کے درمیان پانی کے معاملے پر موجود اختلافات اور بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاعات کے بغیر ہی سیلابی پانی کو پاکستان میں چھوڑنے جیسے معاملات کو دیکھنے کے لیئے تین بار کمیٹی اجلاس بلائے، لیکن اجلاس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسپیکر کو اس ضمن میں ٹیلیفون بھی کیا لیکن تاحال اجازت نہیں دی گئی۔ اگر اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو چلنے نہیں دیا جائیگا تو اسمبلی کس طرح کام کرسکے گی۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ سندھ کے ساتھ پانی کے معاملے پر بہت بڑی ناانصافی ہو رہی ہے، جس کا اعتراف وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ سندھ کے نمائندے کو ارسا کے اجلاس میں بات کرنے ہی نہیں دی جاتی۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ انہیں ارسا میں سندھ کے نمائندے مظھر علی شاہ نے بتایا کے اجلاس کے دوران انہیں بولنے نہیں دیا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ پی پی پی رکنِ قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر اسمبلی کے فورم پر معاملات کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ان کے پاس عوام کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچے گا، جبکہ اس وقت پیپلز پارٹی ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، دل پر پتھر رکھ کر خاموش ہے۔ پی پی پی ایم این اے و چیئرمین گورکھ ہلز ڈولپمینٹ اتھارٹی رفیق احمد جمالی نے کہا کہ گورکھ ہِل پر سیاحت کو فروغ دینے کے لیئے تاحال وفاقی حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس وقت تک جتنی بھی فنڈنگ کی ہے وہ حکومتِ سندھ نے اپنے محدود وسائل سے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورکھ ہل کا علاقہ دشوار گذار ہے، جس کی ترقی پر بہت زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہے اور وفاق کی جانب سے عدم دلچسپی کی وجہ سے وہاں ترقیاتی عمل سست روی کا شکار ہے