Uncategorized

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو گلگت بلتستان کے دورے پر ہیں استور سے اسکردو پہنچ گئے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو گلگت بلتستان کے دورے 
پر ہیں استور سے اسکردو پہنچ گئے ہیں جہاں وہ کل دوپہر ایک بڑے جلسہ عام سے 
خطاب کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مقامی عہدیدار اور کارکن بڑے زور و 
شور سے جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے آج صبح استور 
سے اسکردو روانگی سے قبل پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں سے تفصیلی 
ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تمام 
توانائیاں پارٹی کی تنظیم کے لئے وقف کریں اور ملک بھر میں بسنے والے گلگت 
بلتستان سے تعلق رکھنے والوں کو پارٹی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ 
صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ ، اپنا گورنر اور 
وزیراعلیٰ دیا۔ اس سے قبل وفاق کسی غیر مقامی شخصیت کو گورنر تعینات کرتا 
تھا مگر اب گورنر کا تعلق بھی گلگت بلتستان سے ہوتا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی 
نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دے کر 
محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کی تعبیر کی۔ اب ہمیں اور آگے جانا ہے تاکہ 
گلگت بلتستان کے عوام کو بھی دیگر صوبوں کے عوام کی طرح ریاست کے ثمرات ملیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے

 پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ 
پاکستان پیپلزپارٹی کا بلاول لورز آرگنائزیشن، بلاول ورکرز آرگنائزیشن اور 
بلاول بھٹو فورم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی پارٹی کے چیئرمین کا ان 
تمام تنظیموں سے کوئی تعلق ہے۔ پارٹی کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے بیان 
میں سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکن اور عوام چیئرمین بلاول 
بھٹو زرداری سے منسوب اس طرح کی تمام تنظیموں کو پیپلزپارٹی کا حصہ نہ 
سمجھیں۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے منسوب ایسی کسی تنظیم سے کسی 
پارٹی عہدیدار اور کارکن کا تعلق ثابت ہوا تو ان کے خلاف تنظیمی ضوابط کے 
تحت کارروائی ہوگی۔

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ 
توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس توسیع سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں 
ہوگا بلکہ اس سے بہت سارے اعلیٰ فوجی افسران کے کیرئیر پر اثر پڑے گا اور 
نتیجے کے طور پر ان کا مورال متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک مضبوط 
ادارہ ہے اور مضبوط ادارے کسی ایک شخصیت پر انحصار نہیں کرتے چاہے وہ شخصیت 
کتنی بھی قابل اور بہترین ہو۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اداروں کی کمزوری 
شخصیت پرستی میں ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس پر ہمیشہ کے لئے 
انحصار کیا جائے۔ یہ فوج کے لئے اچھا پیغام نہیں ہے کہ فوج ایک یا دو افراد 
پر انحصار کر رہی ہے۔ جب سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنی 
ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل ہی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی مدت ملازمت میں 
توسیع کی گئی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اس وقت عمران نے 25جنوری 
2016ءکو یہ ٹویٹ کیا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی عزت و وقار قوم کے سامنے ان 
کے اس اعلان سے بڑھ گئی ہے کہ وہ توسیع لینے سے انکار کر دیں گے۔ اگر اس 
وقت ایک فرد کے اس انکار سے قوم کی نظروں میں ان کی عزت اور وقار بڑھ گئی 
تھی تو اب یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ جب کوئی فرد مدت ملازمت میں توسیع 
قبول کر لیتا ہے تو ان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو جائے گا۔ مسٹر یو ٹرن 
خان کے سوچنے کا طریقہ عجیب و غریب ہے۔عمران خان نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچلاک کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچلاک کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں پی پی پی چیئرمین نے دھماکے کے شہداء کے ورثاء سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ عبادت گاہوں میں دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے مائنڈسیٹ کو کچلنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل ضروری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتہاپسند قوتیں بزدلانہ ہتھکنڈوں سے قوم کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں۔

ڪراچي (16 آگسٽ 2019) پاڪستان پيپلز پارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري ڪچلاڪ جي مسجد ۾ ٿيل ڌماڪي جي سخت لفظن ۾ مذمت ۽ ان جي نتيجي ۾ انساني حياتين جي نقصان تي افسوس جو اظهار ڪيو آهي. پنهنجي بيان ۾ پي پي پي چيئرمين ڌماڪي ۾ شهيد ٿيلن جي وارثن سان همدردي ۽ ايڪي جو اظهار ڪيو ۽ چيو ته عبادتگاهن ۾ ڌماڪا انتهائي مذمت جوڳو عمل آهي. هن چيو ته انتهاپسندي جي مائينڊسيٽ کي چيڀاٽڻ لاءِ نيشنل ايڪشن پلان تي عمل ضروري آهي. بلاول ڀٽو زرداري چيو ته انتهاپسند قوتون بزدلاڻين حرڪتن ذريعي قوم جي حوصلي کي هارائي نه ٿيون سگهن.

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

کراچی (10 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

اقلیتوں کے قومی دن کے موقعے پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سفید رنگ کے بغیر پاکستان کا وہ سبز ہلالی پرچم مکمل نہیں ہوسکتا، جس کی توثیق بابائے قوم محمد علی جناح نے کی تھی۔ یہ پرچم ہمارے اعلیٰ معاشرتی اقدار، انسانیت پرور نظریاتی بنیاد اور قومی اتحاد کا اعلامیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اقلیتی برادری کے حقوق و ترقی کو ہمیشہ ایک قومی فریضہ گردانتے ہوئے امتیازی برتاوَ کے خاتمے و قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی خاطر قانونساز و حکومتی اداروں میں ان کی بھرپور نمائندگی اور یکساں مواقع کو یقینی بنانے کے لیئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ فقط ہماری جماعت کا طرہ امتیاز ہے کہ سینیٹ سے لے کر صوبائی اسیمبلیوں تک اقلیتی رہنماوَں کو جنرل نشستوں پر منتخب ہونے اور انہیں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیئے میدان میسر کیا ہے۔ یہ بھی پوری قوم کے لیئے قابلِ فخر ہے کہ پسماندہ طبقات کا پسمنظر رکھنے والی مذکورہ قیادت کی اکثریت پُراعتماد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو قومی ہم آہنگی و ترقی کی جدوجہد میں اب علمبرداری کا کردار نبھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہید ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین کے ذریعے سرزمین پاک سے وہ تمام امتیازی لکیریں مٹادیں، جو نفاق و خلفشار کا سبب بن سکتی تھیں، تو دوسری طرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ وزارتِ اعظمیٰ کے دوران وزارتِ برائے اقلیتی امور قائم کرکے غیرمسلم شہریوں کو درپیش مسائل کے جلد حل اور پیشرفت کے لیئے نئے دروازے کھول دیئے۔ صدر آصف علی زرداری کی زیرِقیادت عوامی حکومت نے ہر سال 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن منانے کا فیصلہ کر کے قائداعظم کے اعلان کردہ اقلیتوں کے لیئے مساوی حقوق کو چوری ہونے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ کردیا۔ اس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی پی پی ملک کی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف اقلیت سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیے جس میں دو سینیٹرز، ایک ایم این اے، دو ایم پی ایز جبکہ چئیرمین و وائس چئیرمین اور ٹاون کمیٹیوں میں بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے منتخب کارکنان کی تعداد درجن کے قریب ہے-

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی آبادی کی فلاح و بھبود کے لیئے اٹھائے گئے مذکورہ بالا چند و دیگر بیشمار اقدامات کے نتیجے میں “بانٹو، لڑاوَ اور راج کرو” کی دقیانوس سوچ کی پیروی کرنے والے دائیں بازو و اسٹیٹسکو کے حامی عناصر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی اور کی قیادت کے خلاف جاری انتقامی جنگ کو سمجھنا راکٹ سائنس نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غیرمسلم پاکستانی شہریوں کے یکساں حقوق کی حفاظت کی لڑائی درحقیقت قائداعظم کے ںطریات کے مطابق مساوات پر قائم جمہوری پاکستان بنانے کی جدوجہد کا اہم جُز ہے اور کوئی بھی ذی شعور پاکستانی اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔ لحاظہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اس جدوجہد کو بارآور کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

سابقابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول 
بھٹو زرداری سے آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام 
آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں آل پاکستان حریت کانفرنس کے 
کنوینر سید فیض نقشبندی اور سید عبداللہ گیلانی نے وفد کی قیادت کی۔ وفد 
میں محمود احمد ساغر، فاروق رحمانی، یوسف نسیم حسن البنا، پرویز احمد شاہ، 
عبدالمجید میر، رفیق ڈار اور مرتضی دورانی شامل تھے۔ حریت کانفرنس کے 
رہنماﺅں نے ملاقات کے دوران پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ آپ 
کی شخصیت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید موجود 
ہیں۔ کشمیریوں کو امید ہے کہ آپ اپنے عظیم نانا اور عظیم والدہ کے نقش قدم 
پر چلتے ہوئے کشمیری عوام کی آواز بنیں گے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سابق 
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مقبوضہ کشمیر کی 
آزادی کے لئے ہزار سال تک لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے 
اپنے بانی کے اس عہد کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ 
اقوام متحدہ بھارت کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند کرے۔ وفد سے 
گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان سے وفا 
ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ پاکستان کے عوام کشمیر اور کشمیریوں کو اپنے وجود 
کا حصہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ کارکن جو 
سمندر پار مقیم ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے سفیر بن کر ان کی آواز دنیا 
بھر کے حکمرانوں تک پہنچائیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 
انہوں نے مودی کے گجرات میں ادا کئے ہوئے قصائی کے کردار کے پیش نظر انہیں 
قصائی کہا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ مودی مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور جبر کا 
بازار مزید گرم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہذب ممالک کی حکومتوں کو اور 
عالمی منصفین کو مودی کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ 
پرویز اشرف، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر شیری رحمن، چوہدری پرویز اشرف اور 
فیصل ممتاز راٹھور بھی موجود تھے۔

-- 

        

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں 
محترمہ فریال تالپور کی عیادت کی ۔ بی بی بختاور بھٹو زرداری اور بی بی 
آصفہ بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے 
ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے محترمہ فریال تالپور کی صحت پر تشویش کا اظہار 
کرتے ہوئے کہا کہ کل اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی تو نیب آفس نے انہیں 
ہسپتال منتقل کیا۔ آج ان کا ریمانڈ پورا ہو رہا تھا تو انہیں عدالت میں پیش 
کرنے کی بجائے جیل بھیجنے کی درخواست کی عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس کی 
کوئی مثال نہیں ملتی مگر اب سب ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فریال 
تالپور بیمار ہیں۔ ڈاکٹر کسی بھی شہری کو اس حالت میں ہسپتال سے منتقلی کی 
اجازت نہیں دیتے مگر نیب اہلکار اس بات پر بضد ہیں کہ وہ محترمہ فریال 
تالپور کو بستر سے اٹھا کر جیل لے جائیں گے۔ وہ ڈاکٹروں کی بھی بات سننے کے 
لئے تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس میں غیرت نہ ہو 
وہ بزرگوں اور خواتین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی پہلے بھی انتقامی 
کارروائیوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 
ہم پریشر میں نہیں آئیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک مشترکہ پیغام 
جانا چاہیے تھا مگر انا اور ضد سے مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلاول 
بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سلیکٹڈ نہ کہا جائے میں انہیں 
سلیکٹڈ نہ کہوں تو کیا کہوں، بے غیرت نہ کہوں تو کیا کہوں، منافق نہ کہوں 
تو کیا کہوں؟ آپ ظلم کرتے ہیں ہم ظلم سہتے رہے ہیں گے مگر آپ ہماری زبان 
بند نہیں کر سکتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخ تمہارے کردار 
کو ضرور یاد رکھے گی کہ یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کشمیرکا سودا کیا تھا۔ اس 
موقع پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر اور چوہدری منظور بھی موجود تھے۔

--

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین صادق 
سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ میں پارٹی کے سینیٹروں کے کردار ا ور اس 
انتخابات کے متعلق ایک پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ہے جس کے 
اراکین سید یوسف رضا گیلانی، سید نیر حسین بخاری، سعید غنی، صابر بلوچ اور 
فرحت اللہ بابر ہیں۔ یہ کمیٹی اگر ضروری سمجھے گی تو دیگر اراکین کو بھی 
شامل کر سکتی ہے۔ یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی استعفوں کے متعلق پارٹی لیڈرشپ کو 
سفارشات بھی پیش کرے گی۔ ایک بیان میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز سینیٹ میں ہونے والی ہارس 
ٹریڈنگ پر سخت مایوسی کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اس کی تہہ تک جائیں 
گے اور جن لوگوں نے اس سلسلے میں گندا کردار ادا کیا ہے انہیں منظرعام پر 
لائیں گے۔ یہ کمیٹی اس بات کی بھی چھان بین کرے گی کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس 
اکثریت ہونے کے باوجود وہ چیئرمین سینیٹ کو کیوں نہ اٹھا سکی اور جو 
سینیٹرز غلطی کے مرتکب پائے گئے اور جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی 
انہیں سزا بھی دی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا 
فیصلہ 26جون کو اسلام آباد میں تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ اس 
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے اراکین لئے گئے ہیں۔ 
پارٹی امید کرتی ہے کہ حزب اختلاف کی دیگر پارٹیاں بھی اپنے سینیٹروں کے 
متعلق تحقیقات کریں گی۔

-- 

پاکستان.پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے قائد آصف علی زرداری کی 64ویں سالگرہ جوش و خروش اور باوقار

پاکستان.پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے قائد آصف علی زرداری کی 64ویں سالگرہ جوش و خروش اور باوقار طریقے سے منائے گی۔ انہوں نے پارٹی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں سالگرہ کی تقریبات منعقد کرکے اپنے قائد کی بہادری، ثابت قدمی اور جمہوریت کا تحفظ کرنے پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کریں اور ان کی صحت اور درازی عمر کے لئے خاص دعائیں کی جائیں۔ پیپلزپارٹی کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ سابق صدر نے جمہوریت کی خاطر طویل قید کاٹ کر جمہوریت پسندوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے 1973ءکا آئین اصل صورت میں بحال کرکے پارلیمنٹ کو بااختیار بنا کر اس ذہنیت کو سیاسی شکست دی جو جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف رہے ہیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ صوبوں کو خودمختاری دینا ، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا، خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کی شناخت دی اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ معاشی انصاف کیا۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے سوات میں دوبارہ قومی پرچم سربلند کرکے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب خواتین تک رسائی بھی ان کا شاندار کارنامہ ہے۔ آصف علی زرداری نے ماضی میں برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کو باعزت طریقے سے بحال کیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کرکے ان کی مشکلات کا ازالہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری آج بھی ان عناصر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہیں جو جمہوریت کو کمزور اور پارلیمان کو ربڑ اسٹمپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں کو اپنے قائد آصف علی زرداری کی قیادت پر فخر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی میڈیا کوریج روکنا بدترین آمریت ہے۔ میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کسی بھی سیاسی مخالف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 126دنوں تک دھرنا دینے والوں سے ایک ریلی ایک جلسہ اور ایک تقریر برداشت نہیں ہوتی۔ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بات کرے تو خان صاحب ایوان چھوڑ دیتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کا حق غصب کرکے ان کے پروڈکشن آرڈرز رکوائے جاتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لئے پہلے گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ گرفتاریوں سے آواز نہ دب سکے تو میڈیا پر سنسرشپ عائد کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جتنی میڈیا سنسرشپ آج ہے ایسی تو صرف آمریتوں میں ہوا کرتی ہے۔ عمران خان کے پاس عوام کے سوالوں کا جواب نہیں تو زباں بندی کروانا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلق خدا کی آواز کو بڑے بڑے آمر نہیں دبا سکے یہ کٹھ پتلی کیا چیز ہے؟ آمرانہ ہتھکنڈوں سے صرف ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ اپوزیشن سلیکٹڈوزیراعظم کی ہر پابندی اور انتقام کر مقابلہ کرے گی۔